The one 
Episode 3

مکث کی انکھوں میں التجا اگئی جو کھبی کسی کے لیے نہیں ائی تھی اس کا دل بے بس ہورہا تھا وہ کسی طرح حیا کو حاصل کرنا چاہتا تھا

"بیس منٹ تو کیا میں بیس سکینڈ تم سے بات نہیں کرنا چاہتی ۔"
وہ ہاتھ چڑوا کر تیزی سے بھاگی 
مکث اس کے پھیچے آیا 
"پلیز حیا میری بات سنوں میں تمہیں وان ملین ڈولر دینے کے لیے تیار ہوں ایک بنگلہ ایک کار جو تم چاہوں ۔"
حیا نے اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھوس دیں اور تیزی سے چلنے لگی 
وہ سامنے والے بندوں سے دھکے کھا رہی تھی لیکن اسے کوئی فرق نہیں پڑ رہا تھا 
اچانک تیزی سے چلنے کے باعث اس پتا نہیں چلا کے اک کار سامنے آرہی ہے اور اس کو زور سے مارنے لگی جب دو مضبوط ہاتھوں نے اس زور سے کھینچا 
اور بہت زور سے جنجھوڑا 
حیا نے دیکھا وہ مکث تھا جس کا چہرہ لال اور بلیو انکھیں سیاہ ہوگئی تھی 
"تمھارے ساتھ مسئلہ کیا ہے کیوں اپنی جان لینے پہ تلی ہوں تمہاری یہ غلط فہمی ہے حیا میں تمہاری کسی بھی۔ دھمکی میں نہیں آو گا یا اس طرح کی حرکت سے رُک جاوں گا میں تمہیں کسی طور پہ حاصل کرنا چاہتا ہوں ایک ملین نہیں فائن میں تمہیں تین ملین ڈالر دینے کے لیے تیار ہوں۔"
وہ غرایا 
"ہاں بے غیرت جو تم ٹہرے جو تم چاہتے ہوں ایسا نہیں ہوگا کیوں کے یہ میرے لیے گناہ ہے میں اس گناہ میں تمہارا ساتھ کھبی نہیں دو گی ۔"
حیا بھی اسی انداز میں بولی 
"اوکے یہ بات ہے تو شادی کرلو میرے سے بعد میں ڈائیورس لیے لینا ۔"
مکث آب نارمل ہوچکا تھا 
حیا کو اپنی قسمت پر ہنسی آرہی تھی اور رونا بھی آرہا تھا آج اسے اپنی ماں باپ، ہارون بھائی بہت یاد آرہے تھے 
کاش ازکا ایسا نہ کرتی تو اس طرح کی مصیبت کا سامنہ نہ کرنا پڑتا یا کاش اس کے گھر والے اس کا یقین کر لیتے مجھے یہ شہر چھوڑنا پڑیں گا ۔
حیا نے دل میں سوچا اور اس دیکھتے ہوئے وہاں سے جانے لگی 
"ایسا سوچنا بھی مت تمھارے گھر کے باہر اگر دس گارڈ نا لگا دیں تو میرا نام بھی مکثملین مارٹن نہیں ۔"
وہ جیسے اس کی سوچ پڑھ چکا تھا میں اپنی جان دینے سے نہیں ڈرتی مسڑ مارٹن یہ تو تم دیکھ چکے ہوگے ۔"
وہ آگ برساتے لہجے میں بولی 
"میں تمہیں جان لینے نہیں دو گا اتنا بے بس کردوں گا کے تم نے مجھ تک آنا ہے ۔"
"یہ مر کر نہیں ہوگا ۔"
وہ چیخ کر بولتے ہوئے وہاں سے چلی گئی 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رومیسہ انٹی اس کی بات ُسن کر بولی 
"تم وہ نوکری چھوڑ دو میری ایک دوست ہے اس کی ساس ہے اسے ٹیک کیر کر لو دراصل کسی رشتہ دار کی شادی ہے ان کو سنبھالنے کے لیے تمہیں روم جانا پڑیں گا اس کے بعد وہ کسی اور ملک کی بات کررہی تھی بہر حال تمھارئ ملاقات کروادیتی ہوں میں تم انجوائے بھی کر لو گی ۔"
"شکریہ انٹی یو آڑ ا گریٹ ہلیپ میں اس وقت صرف مکث مارٹن سے جان چھڑوانا چاہتی ہوں جو میرے ہاتھ دھو کر پھیچے پڑ گیا ہے ۔"
حیا نے پریشانی سے اپنے کنپٹیاں دبانے لگی 
"میرا دل تھا تم لائبہ کی شادی کے لیے رکُتی لیکن میں جانتی ہوں بیٹا تمھیں بہت بُرا لگ رہا ہوگا کے لڑکے نے مزہب نہیں بدلا ۔"
"انٹی پلیز آپ مجھے شرمندہ کررہی ہے میں ایسی نہیں ہوں کنزریٹو ٹائپ بس میں ایک عام سئ مسلمان ہوں آور میں نہیں چاہتی کوئی میرے سامنے غلط کام کررہا ہوں خاص کر وہ جس سے میں آپنا سمجھوں میرا کام تھا ہوگیا پر پورا نہیں ہوا میں نے صرف زبان کا استمعال کیا کیونکہ آپ کے اور لائبہ کے بہت احسان تھے پر مجھے آب بھی یہ سب اچھا نہیں لگ رہا آخری دفعہ کہوں گی انٹی آپ اپنی بیٹی کو دلدل سے بچا لے کوئی ماں ایسا کیسے کرسکتی ہے ۔"
حیا یہ سب کہنا نہیں چاہتی تھی لیکن جو شخص اسے اچھا لگتا تھا وہ اس کے لیے ایسا ہی کرتی تھی اور رومیسہ انٹی تو اس کی فیورٹ تھی
"جانتی ہوں پر اس نے مجھے خودکشی کی دھمکی دی اور میں جانتی ہوں وہ سب کرسکتی ہے رمیض کی اکسیڈنٹ کے بعد میرا دل بہت کمزور ہوگیا ہے میں یہ سب برادشت نہیں کرسکتی بس دعا کرو آللّلہ کارل کو ہدایت دیں 
"انٹی آپ نے ایک گناہ کو بچا کر اس سے دوسرے گناہ میں دھکیل رہی ہے یہ شادی نہیں زنا ہے 
حیا مدھم سا کہہ کر اٹھ پڑی اس کی انکھیں شدت سے چھلکنے کے لیے بیتاب تھی 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ایک بچی کو ان سے مار کھاتے ہوئے دیکھ رہا تھا وہ شدت سے کانپ اٹھا اس کی مصعوم انکھیں بہتی جارہی تھی سمندر کی طرح وہ اپنی ماں کی ٹانگوں سے لپٹ گیا اور اسے دیکھنے لگا 
"مما چلے یہاں سے مجھے ڈر لگا رہا ہے ۔"
اس کی ماں اس سے نہیں دیکھ رہی تھی 
اس نے امیرالڈ کوکٹیل ڈریس پہنا تھا لبوں پر تیز سی لپ سٹک لگائے بلونڈ بالوں کو کرل کیے وہ مسکراتے ہوئے ملنر کو بلاتی ہے 
"یہ لو چلوں مجھے پورے دو لاکھ روپے دوں ۔"
اولویا نے مسکراتے ہوئے کہا
"ہوں تمہارا بچہ تو واقی خوبصورت ہے بلکل تمہاری طرح اولی ۔"
میں کیا کہہ رہی ہوں گیو مائی منی ۔"
ملنر نے اسے اور پھر غور سے ایک بچے کو دیکھا پھر منہ موڑتے ہوئے بولا 
"جیس جلدی سے دو لاکھ کا چیک لاو ۔"
"ممی چلیے نا یہاں سے ۔"
وہ آب بھی روتے ہوئے انھیں کہہ رہا تھا 
وہ دیکھ رہا تھا آب اس بچی کو مار کر گھسیٹ رہے تھے اور وہ چیخے جارہی تھی 
اولویا نے پیسے لیے اور اپنی ٹانگیں چڑھوا کر تیزی سے مڑی 
وہ تیزی سے اس کے پھیچے بھاگا لیکن ملنر پکڑ چکا تھا 
"کدھر جارہے ہوں بچے تمھاری ماں نے تمہیں بیج دیا ہے ۔"
"مجھے میری مما کے پاس جانا ہے چھوڑوں مجھے چھوڑوں۔"
وہ لڑکی کی دلخراش چیخے سن کر رونے لگا 
ملنر نے اسے زور سے زمین پر پٹکھا 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ آبھی گھر کے گلی کے اندر داخل ہوئی تھی کے سامنے دو عجیب شکلوں کے آدمی کھڑے تھے جو شرابی لگ رہے تھے اور منہ میں سگیرٹ ٹھونسی ہوئی تھی 
حیا ان کی بھیانک شکل دیکھ کر ڈر گئی وہ سوچ رہی تھی دوسرے راستے سے چلی جائیں جب مڑی تھی کے اور آدمی اس کے پھیچے کھڑا تھا ٹکرائیا 
"ویل ہلیو بیوٹی !"
اس نے اپنے پیلے دانت باہر نکلائے جن سے عجیب سے بدبو سے حیا کے دل متلانے لگا 
وہ تیزی سے گزرنے لگی 
کے اس کے اہنی ہاتھ نے اس کے بازو کو جھکڑا 
"چھھھچھوڑو مجھے !!!"
پھیچے سے وہی آدمی سیٹی بجاتے ہوئے عجیب سی آواز نکالتے ہوئےاس کا راستہ روکا 
حیا کوشش کر کے انھیں ہٹانے لگی 
اس کا چہرہ سفید ہورہا تھا 
"مائیکل پہلے تو شروع ہوگا یا میں ۔"
اڈورڈ ہنستے ہوئے بولا 
"نہیں پہلے میں اس بیوٹی گرل کو شیشے میں اتاروں گا ۔"
ہنری اٹک اٹک کر بولتے ہوئے حیا کو زور سے کھینچا 
"چھوڑ مجھے آللّٰلہ مجھے بچا لے اللّٰلہ تو رحمان ہے تو میرے ساتھ ایسے نہیں کرسکتا تجھے پیارے حبیب کے صدقے تو میری حفاظت کر ۔"
وہ چیخ چیخ کر اللّٰلہ سے فریاد کررہی تھی 
اس نے حیا کا کوٹ کھینچ کر اتار پھینکا حیا نے تیزی سے اس کے پیٹ پہ لات ماری اور بھاگنے لگی ساتھ میں آئیتہ الکرسئ کے ساتھ بلند آواز میں ایک ہی لفظ دہرا رہی تھی اللّٰلہ اکبر اللّٰلہ اکبر جب ایک 
بلکل قریب ہوگیا اس نے اپنا بیگ اس کے منہ پر زور سے مارا اور بھاگنے لگی کے اس کا پیر مڑا وہ نیچے گر پڑی وہ اٹھنے لگی کے ان میں سے نے اس کے بال زور سے پکرے اور کھینچ کر مُوڑا وہی تھا جس سے حیا بھاگی تھی 
اس نے حیا کو زور دار تھپڑ مارا اور اس کے پیٹ پر زوردار لات ماری جس سے حیا کو لگا اس کی انتھے باہر آجائیں گی اس کی انکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھا رہا تھا اپنے ویل پاور پر اس نے ہٹانا چاہا 
لیکن اس نے حیا کو جھکڑ کر جھکا ہی تھا کا کسی کا بھاری ہاتھ اس کی پھیچے سے زور سے پڑا 
وہ گالی دیتے مڑا 
مکث نے غصے سے اس کے منہ پر گھونسہ دیا کے وہ بندہ گڑ پڑا وہ اب اس پر لاتوں گھونسوں کی بارش کرچکا تھا اور ساتھ میں گالیاں دیں رہا تھا 
‏How dare you touch her you rascal I'll cut you in pieces 
مکث کا چہرہ غصے کی شدت سے لال ہو گیا تھا اور وہ مارتے ہوئے کسی طور بھی نہیں رُک رہا تھا حیا نے ڈر کر ادھر دیکھا تو دھک سے رہ گئی پھیچے دو ہٹے کٹے گارڈ ان دنوں کا قیمہ بنا چکے تھے 
ایک دم پولیس سائرن کی آواز ائی رائن بھی ساتھ آیا مکث نے اس کا چہرہ شدید ترین زخمی کردیا تھا اس کی سانس مارتے ہوئے پھول گئی تھی 
وہ اب اس کے جبڑے پکر کر غرایا 
"تمہیں آج تیزاب نا پلادیا جائیں یا تمہاری بوٹی کتوں کو کھلا دیں جائیں ۔"
اس کے چہرے پر درندہ نمودار ہوگیا تھا جو کسی طور بھی ان کو چھوڑنے والا نہیں تھا 
"معاف کردیں ۔" 
وہ ہاتھ جوڑ کر بولا اس کا سارا نشہ مکث کی مار سے اُتڑ گیا 
مکث نے چیختے ہوئے اس کو زودار ٹھوکر پیٹ پہ ماری 
‏She's mine and if somebody touches her
‏or see with filthy eyes I'll rip his head 
(وہ میری ہے اور اگر کسی نے اس کو ہاتھ لگایا یا گندی نظروں سے دیکھا تو میں اس کا سر کاٹ دو گا)
وہ بلند آواز میں ان تینوں کو آگ برساتی نظروں سے دیکھ رہا تھا 
حیا ڈر کے مارے گرنے لگی سر بھی شدت سے چکرا رہا تھا رائن نے اسے پکرا اور اپنا جیکٹ اسے دی 
"حیا ریلکس اریو اوکے !"
مکث افسر کو بولا 
‏I want them to be beaten badly just whipped them so they will never able to do this with any girl 
(کوڑے مار کر ان کو ہوش دلاو تاکہ یہ کسئ لڑکی کے ساتھ ایسی حرکت نہ کریں )
مکث نے آفسر کو انھیں لیکر جانے کی بات کی اور فورن مڑا اور تیزی سے آیا 
"چھوڑوں اسے !! "اس نے رائن کو بے حد غضے سے حیا سے کھنیچا اور جیکٹ رائن کو پکرائی 
مکث سٹاپ اِٹ میں رائن ہوں !"
رائن نے شاکڈ انداز میں مکث کاجنونی انداز دیکھا 
"جانتا ہوں تو رائن ہے بٹ ڈونٹ یو ڈیر ٹچ ہر شی از مائن !"
لہجے میں ٹھونس کے ساتھ ملکیت ،تیش کیا کیا نہیں تھا مکث اتنا پوزیسو تھا حیا کے لیے وہ اسے آج پتا چل رہا تھا 
حیا کو اس وقت اتنا ڈر تھا کے وہ مکث کے حصار سے بھی نہیں ہٹی تھی اس کی عزت بچانے کے لیے کون آیا تھا جو اس کی غزت کی نیلامی کررہا تھا جو اسے ایک دن کے لیے حاصل کرنا چاہتا تھا اور آج اسے ایک مشرقی پروٹکٹیو مرد لگا جو اپنی بیوی کے لیے پاگل تھا
‏ baby girl are you okay 
مکث نے بے حد پیار سے اس کے بالوں کو سایڈ پہ کرتے ہوئے اس کا چہرہ دیکھا جو خون ٹپکنے کے ساتھ نیلوں نیل پڑے ہوئے تھے مکث نے اپنی جیکٹ اتار کر اس کو پہنائی اور رومال پوکٹ سے نکال کر اس کے چہرے سے خون صاف کرتے ہوئے پوچھا 
حیا کو نہ آج اس پہ غضہ آرہا تھا نہ آج اس کی قربت محسوس ہورہی تھی زبان پہ جیسے تالے لگ گئے تھے دل ہر آحساس سے عاری تھا بس وہ اس وقت مکث کے مضبوط حصار پہ خود کو سیف محسوس کررہی تھی اس کے حواس جیسے غائب ہوگئے تھے اس لیے وہ مکث سے نہیں الگ ہوئی تھی 
"میں اسے گھر لے کر جارہا ہوں تم ریا کو بلوا لو ۔"
وہ اس سے باہوں میں اٹھا چکا تھا کیونکہ حیا ڈر کے مارے بے ہوش ہوگئی تھی 
رائن نے سر ہلایا 
وہ اسے کار میں بٹھا کر تیزی سے کار چلانے لگا 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاہ زیب کی آج واپسی تھی حیا کا منہ سوجا ہوا تھا
اس دو ہفتوں میں اس نے شاہ زیب کے ساتھ بہت انجوائے کیا تھا دھیرے دھیرے اس شاہ زیب سے محبت ہوگئی جو اس کا گہرا دوست بن گیا تھا جو بہت کیرنگ تھا اور جب اس نے بتایا وہ واپس جارہا ہے 
حیا رو پڑی 
"ارے ارے حیا اس میں رونے کی کیا بات ہے میری جاب شروع ہونے جارہی مجھے واپس تو جانا پڑیں گا ۔"
"پر آپ یہاں بھی تو نوکری کرسکتے ہے 
حیا نے تجاویز پیش کی 
"ایئیڈیا تو اچھاہے پر مجھے سلیری وہاں زیادہ اچھئ مل رہی ہے ساتھ میں نیو کار آب تم نہیں چاہتی میں ترقی کرو ۔"
حیا نے اپنے آنسو صاف کیے 
"ٹھیک جائیں آپ ترقی کریں ۔"
وہ نم لہجے میں اس سے خفگی سے بولی 
"یار میں ایسے نہیں جاو گا تمہیں پتا ہے میں تمہیں ناراض کر کے نہیں جاسکتا یہ خوبصورت سی شکوہ کرتی انکھیں مجھے بہت ڈسڑپ کریں گی ۔"
حیا کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا 
"اچھا ٹھیک ہے میں نہیں جاتا خوش !"
شاہ زیب نے اس کی خاموشی کو محسوس کرتے ہوئے کہا
"نہیں نہیں آپ جائے!" 

"پھر تم ناراض ہوجاوں گی !"
شاہ زیب اس کے فورن مان جانے پہ حیران ہوا پھر اسے تنگ کرتے ہوئے کہا
"نہیں واقی میں آپ جائیں میں بلکل بھی ناراض نہیں ہوں گی 
۔"حیا نے زور دیتے ہوئے کہا
"خوشی سے بھیج رہی ہوں ۔"
اس نے پوچھا 
بلکل آپ جائیں میری دعا ہے آپ ترقی کریں زیبی !"
"تھینک یو حیا تم بہت اچھی ہوں فکر نہ کرو ایک دفعہ جاب سے سیٹل ہوجاوں پھر ضرور پاکستان آو گا ۔
اس نے حیا کا ہاتھ تھپکا 
"آپ ائے گے نا؟"
حیا اُمید بھری نظروں سے دیکھا 
"افکورس میرے فرینڈ یہاں پہ ہے کیوں نا آو!"
اور وہ چلا گیا 
حیا بہت بدل گئی تھی
ﺟﺎﺭﯼ ﮨﮯ
 
Zubair Khan Afridi Diary【••Novel ღ ناول••】. Zubair Khan Afridi
knowledgemoney