The one 
Episode 5

"واٹ !"وہ کوٹ پہن رہا تھا اس کی بات پر جھٹکے سے مڑا
"میں نے کہاتمہیں سکیولیجیکل برالم ہے !"
حیا کے بات پر اس کے چہرے پر عجیب مسکراہٹ ائی "حیا تم کتنے سال کی ہوں !"
اچانک اس کے کہنے پر وہ چونکی 
ُ"انیس سال 
آب جھٹکا مکث کو لگا تھا وہ اتنی ینگ تھی اسے پورے پندرہ سال چھوٹی وہ سمجھا کم سے کم پچیس کی ہوگی اپنی بڑی بڑی باتوں سے 
وہ بڑی ہی لگ رہی تھی 
حیا کچھ کہنے لگی لیکن مکث تیزی سے چل پڑا 
حیا نے اپنا سر تھام لیا وہ آب یہاں کیا کریں گی 
اپنے سارے وعدئے بودے ثابت ہورہے تھے 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"حیا تمہاری طبعیت تو ٹھیک تھی ۔"
امی کے کہنے پر وہ چونکی 
آج رات کو ازکا اور شاہ زیب کی منگنی تھی 
اور حیا چپ چاپ سویٹس کے پیکٹ بنا رہی تھی جب امی نے اسے کہا
"جی امی بلکل ٹھیک کیوں کیا ہوا ؟"
وہ مجھے کچن میں ازکا ملی تھی رات کو اس کے ہاتھ نمبو تھا اس سے پہلے ساتھ والے واش روم میں بھی مجھے عجیب آوازیں ائی تھی اس لیے اُٹھی 
میں نے پوچھا تو کہنے لگی حیا کو الٹیا ہوئی تھی اس لیے اس کو دیں رہی ہوں 
حیا کو حیرانی ہوئی وہ امی کو کہنے لگی لیکن شاہ زیب کے ایک دم انے پر اس کا منہ بند ہوگیا اور اپنے کام میں لگ گئی لیکن وہ سوچ رہی تھی ازکا نے جھوٹ کیوں بولا اور ایسا جھوٹ کیوں ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"واٹ تم نے پورے دس ملین ڈالر کی پینٹنگز پھینک دی ."
رائن کا منہ کھل گیا آ
"وہ بہت عجیب تھی اور کافی بُری ."
مکث لیپ ٹاپ پہ کام کررہا تھا 
رائن اس کے گھر آیا تھا جب ان پینٹنگز کو ڈسٹ بن میں دیکھ کر اس کا منہ کھل گیا تھا دروازہ لاکڈ تھا مطلب مکث گھر میں نہیں تھا ضرور حیا کو بند کیا ہوگا وہ آب آفس پہنچا اور اس سے پوچھا تو مکث کے جواب پہ اس کا منہ کھل گیا 
"خریدنے سے پہلے سوچنا چاہیے تھا یا اگر نہیں پسند تھی تو بیج دیتے !"
مکث خاموش رہا 
مکث کہی تم نے بیر کی مہنگی بوتلے تو نہیں پھینک دی۔"
مکث چونکہ اس کی بات سے پھر مسکرایا 
"یہ کیوں پوچھ رہے ہوں ؟"
"مجھے پتا ہے تم نے یہ حیا کی وجہ سے کیا ہے !"
"حیا کی وجہ سے کیا ہے تو اس میں کیا بات ہے میں چاہتا ہوں وہ کمفڑبل رہے اور ویسے بھی اس نے سارا بار خالی کردیا ہے ۔"
"واو اور تمہیں الجھن نہیں ہوئی اس نے تمہاری پرفیکٹ دنیا خراب کردی ۔"
رائن طنزیا بولا 
مکث نے گھورا پھر بولا 
"میں آب سے تمہارے گھر رہوں گا !"
آب رائن کو مزید جھٹکا لگا 
"کیوں بھائی اپنے پنٹ ہاوس میں جگہ کم پڑ گئی ہے جو میرے گھر میں گھس رہے ہوں !"
"کیوں تمہارے ولا میں جگہ کم پر گئی ہے جو میں نہیں رہ سکتا ۔"مکث بھی اسی انداز میں بولا
"آب یہ بھی حیا کے وجہ سے ہوگا یار پہلے کہتا ہے تو اسے حاصل کرنا چاہتا ہے اسے اپنے گھر بند کر کے تو میرے گھر آرہا ہے یہ چکر کیا ہے پورے دو مہینے سے تم نے مجھے کنفیوز کیا ہے بلکہ نہیں تم بھی کنفیوز ہوں ۔"
"میں بلکل بھی کنفیوزڈ نہیں ہوں رائن میں اس سے پیار کرنے لگا ہوں ۔"
مکث کی انکشاف پر رائن مسکرایا وہ پہلے سے جانتا تھا مکث اس لڑکی سے پیار کر بیٹھا ہے لیکن اعتراف نہیں کر پارہا 
"وہ لڑکی ممی کے بعد دوسری امپورٹنٹ شخصیت ہے میرے لیے۔
ونیسا ممی سے میں اس لیے پیار کرتا ہوں کیونکہ انہوں نے مجھے زخمی حالت میں اپنے پاس لیے کر گئی 
اپنے بوئی فرینڈ کو چھوڑ دیا جن کے بچے کی وہ ماں بنے والی تھی جس سے وہ پیار کرتی تھی صرف میری خاطر کیونکہ ڈیوڈ مجھے قبول نہیں کررہا تھا مجھے ہر قسم کی آسائش دیں مجھے ایک پڑھا لکھا انسان بنایا وہ الگ بات ہے میں ایک اچھا انسان نہیں ہوں لگتا ہے میں اولیویا ایک کال گرل کا بیٹا ہوں جس نے پیسے کی خاطر مجھے بیج دیا ایک دس سال کے بچے کو ۔"
مکث کی انکھیں شدت سے لال ہوگئ 
"ایزی بڈی کیوں پرانی بات یاد کررہے ہوں !"
رائن نے اس کا ہاتھ دبایا 
مکث نے زور سے انکھیں بند کی 
"ممی نے مجھے فریڈی سے زیادہ پیار دیا میں تو ان کی سگی اولاد نہیں تھا انہوں نے ڈیوڈ کے علاوہ کسی کو نہیں سوچا اور کسی سے شادی نہیں کی 
اپنی ساری زندگی میری اور فریڈی کے نام کردی ۔"
اس لیے وہ میرے لیے بہت اہم اور دوسری حیا
وہ پتا نہیں اس میں کیا جو مجھے پہلی بار بُری طرح کھینچا انوسینٹ ئینگ گرل ویری ریلجس کائنڈ اف سڑونگ اینڈ بولڈ لیڈی وہ ہر لڑکی سے بہت مختلف ہے ۔"
مکث کسی ٹرانس میں کھو کر بولا 
"اچھا مسڑ پھر کیا کرو گے تم آب شادی لیکن ائی گیس سول میرج ؟"
"پتا نہیں مجھے پتا ہے وہ بلکل نہیں مانے گی ۔"
مکث کندھے اچکاتے ہوئے بولا 
"پھر ایسا ہی چلے گا ۔"
رائن نے ابرو اٹھائے 
"رائن دیکھوں مجھے ابھی نہیں پتا !"
"تم مسلمان بنوں گے ۔"
مکث کا منہ اس کی بات پہ کھل گیا 
کیا ؟
"بات اتنی مشکل نہیں کی اس کا ایک حل ۂے حاصل کرنے کا مسلمان بن جاو ۔"
"یہ نا ممکن ہے !"
مکث تیزی سے بولا 
"کیوں ؟"
"رائن تم یہ کیسی بات کررہے ہوں میں یہ بات تم سے کھبی اکسپکیٹ نہ کرتا ۔"
"مکث تم 35 کے میچور بزنس مین ہوں کوئی پندرہ سال کے بچے نہیں ہوں جو اس طرح کی حرکت کررہے ہوں اس لڑکی کا بھی سوچوں میرا مشورہ ہے جسٹ لیو ہر اینڈ فورگیٹ ہر۔"
مکث کو یہ بات بہت زور سے لگی اور وہ کرسی سے تیزی سے اٹھا 
"سٹاپ آٹ ایسا کھبی نہیں ہوگا اگر تم نے مجھے اسے چھوڑنے کا کہاں میں تمہارا منہ توڑ دو گا ۔"
مکث غرا کر بولا
رائن عجیب انداز سے مسکرایا 
"پھر اپنا مزہب بدل دو !"
"میں ایسا نہیں کرسکتا !"مکث نے ہاتھ اپنی پیشانی پہ رکھا اور مسلا ،لہجے میں بے بسی تھی 
"اپنے مزہب سے تو تمہیں کوئی خاص لگاو ہوگیا ہے ۔"
رائن اُٹھ پڑا 
"ایسا نہیں ہے ممی مجھ سے ناراض ہوجائے گی وہ دکھی ہوگی میں انہیں دکھ نہیں دیں سکتا اس لیے میں خود سوچتے ہوئے پریشان ہورہا ہوں ۔"
"میں جارہا ہوں بہتر ہے جلدی سے کچھ سوچوں وہ لڑکی بہت ینگ ہے اس کی زندگی مت برباد کرو ویسے اس کا کوئی نہیں ہے یہاں ؟"
یہ بات مکث نے بھی نہیں سوچی 
"پتا نہیں کوئی دیکھا نہیں پوچھا گا اس سے !"
وہ گہری سوچ میں بولا 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فنکشن کے بعد جب وہ کمرے میں داخل ہوئی تو اس نے دیکھا ازکا نڈھال انداز میں واش روم سے باہر ائی تھی 
اس کی زرد رنگ دیکھ کر حیا چونکی 
"تمہیں کیا ہوا تم ٹھیک تو ہوں !"
حیا اس کے پاس پریشانی سے ائی 
"میں ٹھیک ہوں ۔"
"تم مجھے ٹھیک نہیں لگ رہی !"
حیا نے اس سے پانی کی بوتل دی 
ازکا نے پی کر گہرے سانس لیا
اور لیٹ کر انکھیں موند لی 
حیا نے اس کے اوپر کمبل ڈال دیا اور الماری سے کپڑے نکالنے لگی جب اس نے دیکھا ایک فائل دراز میں پھسی ہوئی تھی جس سے دراز آدھا کھلا ہوا تھا 
حیا نے دراز کھولا اور اس میں فائل ڈالنے لگی جب ہوسپٹل کے نام پر چونکی اس نے فورن نکالا اور جب فائل کھول کر دیکھا تو اگلے پل رپورٹ اس کے ہاتھ سے گر گئی 
ایک دم اس کا چہرہ سفید ہوگئا جسم کانپنے لگا وہ یہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی ازکا ایسا کرسکتی ہے 
غم سے اس کا خون کھول اٹھا 
اسے ساری بات سمجھ میں ائی 
فورن فائل اٹھا کر ازکا کے سامنے آئی اور اس نے ازکا کے منہ پہ دیں ماری 
ازکا کے انکھ اچانک کچھ لگنے پر کھلی دیکھا حیا کا چہرہ غصے سے لال ہوگیا 
"تم بُری تو تھی لیکن تم بد چلن نکلوں گی میں نے ایسا سوچا بھی نہیں تھا ۔"
حیا زور سے چیخی 
"کیا ہوا کیوں چیخ رہی ہوں !"
ازکا نے فائل دیکھی لیکن اس کے چہرے کا اطمینان نے حیا کو مزید غصہ دلایا 
"کیا ہے نظر نہیں آرہا یہ تمہارے کالے کرتوت ۔"
حیا کاٹ دار لہجے میں بولی 
"میرے یا تمہارے ؟"
ازکا نے آرام سے جواب دیا 
"بکواس بند کرو اپنی میں ابھی جاکے سب کو بتاتی ہوں تم ماں بنے والی ہوں اور خاص کر شاہ زیب کو جو تمہیں مجھ سے ہزار گنا بہتر سمجھتا ہے ۔"
حیا فائل اٹھا کر گئی اور نیچے ائی 
اس نے دیکھا شاہ زیب بیٹھا ہارون سے باتیں کررہا تھا 
حیا فورن اس کے پاس ائی 
اور فائل اس کی گود میں پھینکی 
"دیکھوں دیکھوں اپنی محبت کے کرتوت جو مجھ سے ہزار درجے بہتر ہے دیکھ لو ۔"
شاہ زیب اور ہارون نے ہکا بہکا اس کا جنونی انداز دیکھا پھر شاہ زیب نے فائل اٹھائی اور اس نے جو دیکھا اس کا منہ اور انکھیں کھلی کی کھلی رہی 
"کیا ہوا زیبی ؟"
ہارون نے اس سے لیا تو اس نے دیکھا تو اس کا منہ زرد ہوگیا اور انکھیں ساکت ہوگئی 
حیا تمسخرا شاہ زیب کو دیکھ رہی تھی 
شاہ زیب فورن اٹھا اور حیا کو زور دار تھپڑ مارا 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مکث نے اپنا کچھ سامان پنٹ ہاوس سے لینا تھا اس لیے وہ آیا دیکھا گھر میں خاموشی طاری تھی 
"حیا !"
اس نے اسے پکارا 
وہ کہی نظر نہیں آرہی تھی وہ اپنی کمرے میں گیا وہ نہیں تھی 
اس نے گیسٹ رومز چیک کیے 
پھر اوپر سڑھیوں کے طرف گیا جہاں ممی اور فریڈی کا کمرہ تھا 
وہ وہاں بھی نہیں تھی 
کدھر ہے وہ آخری کمرے میں نہیں ہوسکتئ وہ لاکڈ ہے مکث کا آرٹ سٹوڈیو تھا 
مکث نیچے اترا اس نے دیکھا وہ بالکنی پول کے کونے میں چادر پھیلائے ممی کا بلیک سادہ سا لیس والا سٹالر اپنے سر پر لپیٹے سجدہ کررہی تھی مکث حرکت نہیں کرسکا 
وہ بہت پُرسکون انداز میں نماز پڑھ رہی تھی مکث کو سمجھ اگئی وہ اپنی عبادت کررہی ہوگی 
لیکن وہ بے حد خوبصورت لگ رہی تھی اس کی گھنی پلکیں جھکی سب سے زیادہ اس کی گال سرخ انار کی طرح تھےرنگت کی سانولے پن اس کو مزید پرکشش بنا رہے تھے واقی کوئی بھی اس کا دیوانہ ہوسکتا ہے 
اس نے سلام پھیرا اور دعا کرتے ہوئے اس کی انکھوں میں آنسو اگئے
"امی میرا یقین کرتی آپ کیوں نہیں کیا آپ نے امی آپ کی حیا آپ کی حیو ایسا کیوں کریں گی آخر ایک اٹھارہ سال کی لڑکی ایسا کیوں کریں گی امی ۔"
وہ روتے ہوئے بولے جارہی تھی مکث کو حیا کی بات سمجھ نہیں ائی لیکن اس کے رونے سے اس کے دل کو کچھ ہوا وہ فورن اس تک آیا 
"بے بی گرل شش سٹاپ اٹ ڈونڈ کرائی ۔"
وہ گھٹنے کے بل جھک کر بولا اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھا 
حیا کرنٹ کھا کر ُاٹھی 
"میں نے کچھ نہیں کیا میں نے کچھ نہیں کیا میں بلکل پاک ہوں امی امی !!!"
وہ چیختے ہوئے بولی 
مکث کو آب بھی سمجھ نہیں ائی 
"حیا کام ڈاون !"وہ اس کے قریب آیا 
"نہیں پھر امی مجھے گناہ گار سمجھی گی امی امی ۔"
وہ رونے لگی اور اپنا چہرہ چھپا لیا 
مکث نے اس تیزی سے پکرا اور باہوں میں بھینچا 
"شش بلکل چپ ۔"
"چھوڑوں مجھے چھوڑوں !!"
وہ رورہی تھی اور کمزور بھی پڑ رہی تھی 
مکث نے گرفت مضبوط کر لی 
حیا بولی 
"مجھے چھوڑوں پلیز پلیز !!"
لیکن مکث اسے صوفے پہ لے آیا اور بیٹھا کر کچن میں گیا اپنا کوٹ درست کر کے اس نے فریج کھولا اور اس میں کوئی بھی چیز استمعال شدہ نہیں لگ رہی تھی مطلب وہ صبح سے بھوکی تھی پہلے اس نے پانی کی بوتل نکالی اور حیا کے پاس آیا 
اس نے حیا کو پانی پکرایا جو ابھی تک ہچکیا لیے رہی تھی 
"پلیز حیا چپ ہوجاو میں اپنے آپ کو کنڑول نہیں کر پاوں گا ۔"
مکث کے لہجے میں بے بسی تھی 
حیا ایک دم چپ ہوگئی اور چپ کر کے اس سے پانی لیاپھر اس نے سٹالر اتار کر گلے میں ڈالا 
"سوری میں نے تمہاری ممئ کا سٹالر لیا ہے بعد میں لوٹا دو گی ۔"
"نہیں کیپ اٹ تم پر اچھا لگ رہا ہے اسپیشلئ تمہارے سر میں اٹس رئیلی لک بییوٹی فل ان یو!"
مکث نے بے اختیاری میں کہا 
حیا کو جھٹکا لگا وہ کم سے کم وہ مکثملین مارٹن سے یہ بات اکسپیکٹ نہیں کرسکتی تھی 
"مکث پلیز مجھے یہاں سے جانے دو میں یہاں نہیں رہ سکتی مجھے خوف آتا ہے اتنے بڑے گھر سے ۔"
حیا کے آواز بھی رونے کے باعث بھاری ہوگئی تھی اور انکھیں شدت سے لال
مکث نے گہرا سانس لیا 
"ائیم سوری حیا میں یہ نہیں کرسکتا ۔"
مجھے کیوں یہاں رکھا ہے کیوں مجھے قیدی بنانا چاہتے ہوں کیا کرنا چاہتے ہوں تم جو تم چاہتے ہوں وہ میں تمہیں نہیں دیں سکتی میری دنیا مشکل مت بناو ۔"
"حیا میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں ۔"
اس کی بات پہ حیا جہاں تھی وہی سن ہوگئی 
"حیا میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں پلیز مجھے اپنی زندگی کا حصہ بنا لو ۔"
مکث اس کے نیچے گھٹنے کے بل بیٹھا پھر بھی اس سے کافی اونچا لگ رہا تھا 
"پلیز حیا ائی وانٹ یو فورایور ۔"
"یہ نا ممکن ہے !"
حیا کے لہجے میں سختی کے بجائے سپاٹ لہجہ تھا 
"پلیز حیا ہر چیز ممکن ہوسکتی ہے !"
مکث تیزی سے بولا 
"ائیم سوری پر آپ کیا مسلمان بنے کے لیے تیار ہے ۔"
حیا آب کی بار کاٹ دار لہجے میں بولی 
آب مکث کی ُسن ہونے کی باری تھی پھر جب بولا تو کوشش کی باوجود اس کی آواز کمزور پڑ گئی 
"حیا میں تمہاری ریلجن کی ریسپیکٹ کرتا ہوں لیکن میں مزہب نہیں بدل سکتا ۔"
حیا نے تالی بجائی 
"واو داد دینے پڑی گی آپ کی سوچ کو بہر حال اگر تم مسلمان بن جاتے تب بھی نہیں کرتی میں تم جیسے آدمی سے شادی ۔"
حیا کی بات پہ مکث کا دل تڑپ اٹھا 
"حیا پلیز !"
"مجھے جانے دو تمہیں مجھ سے کچھ حاصل نہیں ہونا مجھے تکلیف مت دو مت دو مکث پلیز !"
"تمہیں اس وقت بھوک لگ رہی ہوگئ میں تمہارے لیے کچھ آڈر کرتا ہوں ۔"
"میں حرام شے اپنے منہ میں نہیں ڈالو گی ۔"
حیا تیزی سے بولا
"حیا تم اتنی مشکل کیوں ہوں !"
"پھر اس لیے کہہ رہی ہوں مجھے جانے دو میری مشکلاتوں کو تم برداشت نہیں کر سکو گے ۔"
"اینف !"
مکث مزید خود کو کنڑول نہ کرسکا 
"میں کوئی بچہ نہیں ہوں جو برداشت نہیں کرسکتا مجھے اگر تمہارا انتظار پوری زندگی کرنا پڑیں تو کرسکتا ہوں سمجھی اور چھوڑنے کی بعد امبوسبل 
آب بس بہت پوگیا بتاو کیا پسند ہے تمہیں تاکہ اڈر کرو ۔"
"میں کچھ نہیں کھاو گی ۔"
حیا نے ضدی لہجے میں کہا
"ٹھیک میں منگواتا ہوں پھر تمہیں زبردستی کھلواو گا ۔"
مکث کی لہجے کی مضبوطی دیکھ کر حیا ڈر گئی لاکھ بہادر سہی لیکن وہ اس وقت مکث کے رحم و کرم پر تھی
"پلیز میں نہیں کھا پاو گی اسپیشلی میٹ اٹس حرام فور می۔"
"اس وقت تو تم برگر کھا رہی تھی وہ حرام کیسے ہوگیا ۔"
مکث گھور کر بولا 
"وہ حلال سٹال سے لیا تھا میں نے ۔"
حیا بولی 
"واٹ ؟"
تم نہیں سمجھوں گے لیکن اتنا بتادو جس میں حلال لیبل لگا ہوگا اسپیشلی فور میٹ میں کھا سکو گی ۔"
"واٹس داٹ ورڈ ؟"
مکث کو خاص سمجھ نہیں ائی تھی 
حیا نے سر جھٹکا 
"فورگیٹ اٹ!"
وہ تیزی سے اٹھی 
اور کمرے میں چلی گئی 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ پھٹی انکھوں سے شاہ زیب کو دیکھنے لگی 
"واو مس حیا واو امریکہ کی بولڈنس پاکستان میں بھی اگئی ائی ائیم امپریس لیکن اتنی بولڈنس میں سوچ بھی نہیں سکتا آپ اٹین کی کیا ہوئی آپ نے حد پار شروع کردیں ۔"
شاہ زیب کےلہجہ زہر سے بھرا ہوا تھا 
حیا کو سمجھ نہیں ائی ہارون بھی اس کے پاس آیا اور اس سے تھپڑ مارا اور مارتا چلا گیا 
"تم اتنی گھٹیا حیا کون ہے وہ بتاو مجھے !"
حیا اپنے آپ کو بچانے لگی اس سے جھٹکا لگا یہ سب ہو کیا رہا ہے 
ہارون نے اس بالوں سے پکرا 
"کون تھا وہ کمینہ بتاو مجھے کس کے ساتھ منہ کالا کیا ہے ۔"
یہ کیا ہورا ہے 
درید صاحب نے ہکا بکہا حیا کو ہارون سے مار کھاتے ہوئے بولا 
"بابا آپ کی لاڈلی نے مجھے بتاتے ہوئے بھی شرم آرہی ہے ۔"
ہارون کے لہجہ میں غیرت تھی 
"مجھے بتاوں۔"
اچانک امی بھی اگئی 
حیا رونے لگی 
"گناہ ازکا نے کیا ہے اور آپ مجھے مار رہے ہیں ۔"
حیا چیخ اٹھی کے ہارون ایک اور دفع مارا 
درید صاحب اور شہلا تڑپ اٹھے 
"ہارون یہ کیا کر رہے ہوں ؟"
امی نے حیا کو اپنے بازوں میں لیا 
"میں بتاتا ہوں آپ کو انٹی انکل ۔"اس نے ریپورٹ پکرائی 
اور انہیں دکھائی 
"آپ کی بیٹی نے اپنے ناپاک ارادے ہمیں خود دکھائے ہیں ۔"
جوہی انہوں نے دیکھا ایک منٹ کے لیے انہیں سکتہ ہوگیا چہرہ سفید ہوگیا 
امی نے دیکھا تو ان کی بھی انکھیں حیرت سے پھٹ گئی 
"حیا اتنی چالکیاں کر کے تم اتنی سی بے وقوفی کر گئی 
کے پہلے اپنا نام سے چیک کر کے دوبارہ گئی اور ازکا کی نام کی رپورٹ بنائی اور ساتھ ایک فائل میں رکھ دیا اور بھول گئی ہوگی ہے نا تت شرم انی چائیے تمہیں ایک تو گناہ کرتی ہوں اوپر سے اپنے بہن پر الزام لگا رہی ہوں واو جسٹ واو ۔"
شاہ زیب درشت لہجے میں بولا 
امی تڑپ کر بولی "یہ جھوٹ ہے حیا ایسا کیسے کرسکتی ہے 
ازکا کو بلواو ۔"وہ چیخی 
درید صاحب کو تو جیسے سکتہ تاری ہوگیا 
"امی میرا یقین کیجے یہ سب ازکا کی چالاکی ہے آپ کی بیٹی ایسی نہیں ماما میں گھر سے باہر بھی نہیں نکلتی امی میرا یقین کیجیے۔"
حیا روئے جارہی تھی 
ایک دم ازکا ائی اور ماحول کو دیکھ کر بلکل بھی نہیں حیران ہوئی 
"ازکا بتاو مجھے یہ سب کیا ہے ؟"
امی تیزی سے بولی 
"امی یاد ہے آپ کو حیا کو کچھ دن الٹیا لگ گئی تھی پھر اس سے چکر بھی آئے تھے مجے پتا تھا لیکن آپ سے چھپاتی رہی کیونکہ میں نہیں چاہتی تھی حیا اکسپوز ہوں اور اس کی بدنامی ہوں ۔"
آزکا کی بات پر حایا چیخ پڑی 
"یہ سب بکواس ہے ابو میں سچ کہہ رہی ہوں ازکا کو لگی تھی وہ جھوٹ بول رہی ہے ابو میں نے ابھی رپورٹ دیکھی تب ائی ہوں ابو ازکا کے ہر جگہ افیر تھے نوروز سے پتا نہیں کس سے ۔"
اس سے پہلے اگے بولتے امی اس سے مارنے لگی 
"مجھے تم پر کتنا مان تھا حیا تم نے میرا غرور توڑا میری تربیت میں کہاں کمی تھی بتا کون ہے کون ہے وہ ۔"
"امی !"
حیا کو لگا دنیا میں کوئی بھروسہ کریں یا نہ کرے امی تو کریں گی آج اس کے اندر سے کچھ زور سے ٹوٹا جو اس کو زخمی کر گیا 
"بس بابا بہت ہوگیا اب یہ اس گھر میں نہیں رہ گئ ۔"
ہارون بھائی میرا یقین کیجیے حیا نے اس کے اگے ہاتھ جوڑے 
ہارون نے اس کو بالوں سے پکرا اور گھسیٹنے لگا 
"ابو امی میرا یقین کیجے یہ سب ازکا کا پلان تھا ۔"
ازکا تیزی سے بھاگی 
"ہارون یہ کیا کر رہے ہوں ایسا نہ کرو وہ ہماری چھوٹی بہن ہے ۔"
وہاں کیا کمال کی ادکار تھی 
"شرم انی چاہیے تمہیں بہن پر الزام لگا رہی تھی اسی بہن کا ظرف دیکھوں ۔"
شاہ زیب کی طنز کی اسے پروا نہ تھی پر امی ابو کو منہ موڑے آج اسے کوڑے برسا رہے تھے 
"امی امی پلیز میں نۓ گناہ نہیں کیا آپ کی حیا پاک ہے صاف ہے ۔"
ہارون اسے گھسیٹنے لگا اور گھر سے باہر پھینکا اور زور سے دروازہ بند کیا 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حیا کی انکھ کھلی اس کو پسینہ اگیا تھا آج کا ہی تو دن تھا آج کا ہی دن جب ہارون نے اسے بےدردی سے گھر سے نکالا تھا حیا شدت سے سسک پڑی 
اچانک دروازہ کھلا 
ایک لڑکی ائی اس کے ہاتھ میں ٹرے تھی 
دیکھنے میں تو کافی سٹائلش لڑکی تھی جس نے لمبی سے اورنج مکسی پہنی تھی جس کی کمر پر خوبصورت گولڈ موٹی بیلٹ لگی تھی 
"ہائے تم حیا ہوں مکث کی بے بی گرل واو ویسے تم بہت پیاری ہوں ۔"اس نے ٹرے بیڈپہ بڑی احتیاط سے رکھی "آپ کون ؟"حیا سمیٹ کر بیٹھی 
"میں میں کیلن رائن کی منگیتر رائن مکث کا دوست اور پارٹنر میں آج حیران مکث جیسہ کانشس بندے نے کہا آج کسی کو کھانا دینا ہے اور وہ بھی اس کے بیڈروم میں یہ واقی تمہارا کمال ہوگا ۔"
حیا چپ کر کے دیکھتی رہی 
"ارے لٹل بیوٹی تم ویسے بہت ینگ خیر کوئی بات نہیں اچھا ہے میں بھی رائن سے گیارہ سال چھوٹی ہوں 
ارے باتوں میں لگ گی مکث نے کہا اس سے جلدی کھانا دینا ہے صبح سے بھوکی ہے ۔"
"بہت شکریہ آپ کا لیکن مسڑ مکث کو بتا دیں میں یہ نہیں کھاسکتی ۔"
"او کم ان حیا مجھے پتا ہے تم مسلم ہوں میری ممی بھی مسلمان ہے اس لیے ممی نے اپنے ہاتھ سے کھانا بنایا ہے ۔"
حیا نے جھٹکے سے سر آٹھایا
"تمہاری ممی مسلم ہے پر تم کرسچن ۔"
"نو نو میں کتھولک ہی ہوں بٹ ارسلا میری فوسٹر مدر ہے 
جب میں گیارہ سال کی تھی تو میری ممی کی ڈیتھ ہوگئی تھی ڈیڈ نے اپنی الگ دنیا بسا لی پتا نہیں کہاں ہوگے خیر سو میں ان کے ساتھ رہی ان کا ایک ہی بیٹا تھا عامر انجینر تھا۔" اچانک کیلن کی اواز عجیب ہوگئی 
حیا چونکی 
"انیویز یہ کھانا لو پھر باتیں تو ہوتی رہی گی رائن تمہاری تعریف کررہا تھا واقی میں یو آر بیوٹی فل ۔"
حیا ہلکہ سا مسکرائی کیلن بہت سویٹ تھی 
اس نے باکس کھولا اس میں دیکھا بریانی تھی ناجانے کیوں حیا کا دل بھر گیا اس کی امی کتنی پیار سے اس کے لیے بناتی تھی پورا ایک سال ہوگیا اس نے بریانی نہیں کھائی جو اس کی فیورٹ ڈش تھی آج اس کو دیکھ کر وہ ایک دم پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی 
"او مائی گاڈ کیا ہوا حیا ۔"
کیلن پریشانی سے اسے دیکھا 
حیا نے نفی میں سر ہلایا 
رو کیوں رہی ہوں پلیز مکث سے مجھے پٹوا نہ دینا 
حیا ایک دم چپ ہوگئی 
"کیلن میں یہاں سے جانا چاہتی ہوں ۔"
حیا ایک دم بولی 
"کیوں ؟"
کیلن نے حیرت سے دیکھا 
"مجھے مکث نے قیدی بنایا ہے ہوا ہے ۔"
"مکث نے تمہیں قیدی کیوں وہ تو تمہیں پروٹیکٹ کررہا ہے ۔"
حیا اس کی بات پر سلگ اٹھی 
پھر اس نے ساری حقیقیت بتائی 
کیلن نے شاکڈ انداز میں دیکھا پھر اچانک ہنس پڑی لیکن اس کی ہنسی میں بے بسی تھی 
"واو مکث اور میری کہانی کتنی ملتی ہے فرق یہ ہے میں مو ان کر گئی پر مکث نہیں کرسکا ۔"
حیا نے حیرت سے دیکھا 
"چلوں کھاو حیا پھر مجھے باہر مکث کو بھی تسلی دیلانی ہے کے وہ کھاچکی ہے آب تم بھی کھا لو ۔"
"مجھے فورس مت کرو کیلن تمہیں نہیں پتا ہے میں نے کیا کیا جھیلا ہے زندگی میں لیکن یہ امتحان میری برداشت سے باہر ہوتا جارہا ایسا لگ رہا ہے جیسے اللّٰلہ میاں ناراض ہوگئے ہیں میں نے ضرور کچھ غلط کیا ہے تب ہی مکث میرا پھیچا نہیں چھوڑا ۔"
حیا نے اپنے انسو صاف کیے 
"تمہیں پتا ہے حیا میں نے کہی پڑھا تھا 
‏Sometimes you face difficulties not because you're doing something wrong but because you're doing something right
چلو کھانا کھا لو پھر مکث یہاں سے چلا جائے گا اوکے 
۔"حیا نے خاموشی سے اس کی بات مان لی 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مکث تین دن سے بھوکا رکھنے اور مار کھانے کے باعث وہ بے ہوش پڑا تھا ملنر کسی کام کے لیے دوسرے شہر گیا تھا کسی نے مکث کے منہ پر پانی پھینکا 
وہ با مشکل ہی انکھ کھول پایا 
جب اس نے دیکھا وہی زخمی بچی تھی جس کو وہ گھسیٹ کر لے گئیں تھے 
"جلدی اٹھوں تم "
وہ نا سمجھی سے اسے دیکھتے ہوئے اِدھر اُدھر دیکھنے لگا وہاں کوئی نہیں تھا بلکل ویرانی تھی

"ارے میں کہہ رہی اٹھوں ورنہ کوئی اجائیں گا 
"کدھر جانا ہے ۔"
وہ بامشکل ہی اٹھ پایا 
"بتاتی ہوں بس ہم دونوں کو یہاں سے کسی بھی طرح نکلنا ہے ورنہ ہمیں یہ ایک گندئے والے انکل کو دئے دیں گے اور وہ ہمیں بہت مارے گے ۔"
اس لڑکی کے لہجے میں ڈر تھا مکث بھی کانپ اٹھا اس کی بات سن کر 
"ہم کہاں جارہے ہیں-"
وہ جہاں بند تھے وہ ایک بار کے نیچے بیسمنٹ تھا 
مکث کو وہ اندھیرئے والی جگہ کی طرف لے کر جارہی تھی 
"ہم اِدھر سے بھی نکل سکتے تھے ۔"
مکث نے بار کی طرف سڑھیوں پر جاتے ہوئے اشارہ کیا 
"مروانا ہے کیا وہاں باہر اِن کے بندئے کھڑے ہیں میں نے کل ایک دوسرا راستہ دیکھا تھا ایک بڑا آدمی اس طرف سے گیا تھا آرام سے چلنا یہ جگہ کافی خطرناک لگ رہی ہے"
مکث کو کوئی چیز بڑے زور سے لگی 
"اف!"
"شش یہاں آواز بہت ائے گی ۔"اس لڑکی نے اس کا ہاتھ پکرا اور تھوڑا اگے چلی جیسے جیسے اگے جارہے تھے اندھیرا بڑھتا جارہا تھا 
"مجھے کچھ نظر نہیں آرہا"۔
آب ان دنوں کو گِھپ آندھیرے میں نہ کچھ نظر آرہا تھا اور خوف بھی انے لگا 
"مجھے بھی نہیں آرہا پتا نہیں کیسے گیا تھا وہ"۔
پیم بولی 
وہ دونوں اگے چلتے گئے پندرہ منٹ بعد جب وہ دونؤں چلتے ہوئے تھک گئے تو ایک جگہ رُک گئے
"آگے کچھ بھی نہیں ہے ۔"
مکث اس کا ہاتھ چھوڑنے والا تھا جب وہ زور سے پکر کر بولی
"پلیز چلتے جاو دیوار کا سہارہ لیے لو"۔
وہ تیزی سے بولی 
مکث نے لے لیا اور پھر پورے پندرہ منٹ بعد پیم بولی 
"وہ رہی جگہ !"
اس نے ایک جگہ کا اشارہ کیا جہاں ہلکی سے روشنی میں ایک سھیری نظر ائی جو اوپر کی جگہ ہول کی ساتھ اٹیچ تھا ضرور اوپر ایک راستہ ہوگا وہ جِدھر پہنچے تو وہ ایک انڈر گراونڈ ٹنل تھا لیکن سدا شکر صاف تھا 
"تم چڑھ تو سکوں گے نا۔"
پیم نے اسے پوچھا 
مکث نے سر اثبات میں ہلایا 
وہ دنوں اب آہستہ آہستہ ایک ایک کر کے اوپر چلنے لگے جب اوپر پہنچے وہ ہول بند تھا وہ زور سے پُش کرنے لگی لیکن بے سُد 
"مجھ سے نہیں ہورہا "۔
وہ زور لگاتے ہوئے بولی 
مکث جو اس سے ایک قدم نیچے تھا وہ بولا 
"تم تھوڑا سائڈ پہ ہوں تاکے میں ہلپ کردوں۔"
پیم ہلکہ سا سائڈ پہ ہوئی 
وہ دنوں مل کر زور لگانے لگے ایک ہاتھ سے سھیری پکریں دوسرے ہاتھ سے زور لگاتے ہوئے بلا آخر وہ کھل گیا 
لیکن مکث کے آب جسم میں درد ہونے لگا تھا
پیم نکل ائی اور اس نے مکث کو ہاتھ دیا مکث بھی نکل پڑا 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،۔۔۔۔،،۔،،۔۔۔۔،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
کیلن رائن کے ساتھ چلی گئی جب کے مکث نے جانے سے انکار کردیا ناجانے کیوں اس لگ رہا تھا جیسے حیا اسے چھوڑ کر چلی جائے گی یا کچھ کر بیٹھے گی 
اِدھر ہی حیا نے شور مچا دیا 
وہ جب اپنے آرٹ سڈوڈیو میں بیٹھا 
حیا کی تصویر بنا رہا تھا جب حیا نے زور دار انداز میں دروازہ کھولا 
وہ اندر داخل ہوئی تو ایک منٹ اس جگہ کو دیکھ کر حیرت سے جم گئی وہ ایک شاندار قسم کا آرٹ سٹوڈیو 
تھا ملٹی کلر کے دیوار کے ساتھ بے شمار پینٹنگز اور سکیپچز پڑیں ہوئے تھے سامنے ونڈو کے دروازے کھلے ہوئے تھے جو رات کی چاندنی کے ساتھ ٹھنڈی ہوا کی پھوار دیں رہی تھی سامنے ایک بڑا سا ڈیسک پڑا ہوا تھا جو بہت صاف ستھرا اور چمکدار تھا اس کے سامنے ولیوٹ کے بلیو کلر کے صوفے کی ساتھ ایزل اور کنویس پڑا تھا اور وہ آرام دہ انداز صوفے پہ بیٹھا سکیچ کر رہا تھا لیکن حیا کے اندر انے پہ حیرت سےاسے دیکھا 
"تم یہاں کیا کررہی ہوں "۔
وہ مدھم سا بولا 
لیکن حیا اسے نہیں سامنے پڑی اپنی تین پینٹنگز دیکھ رہی تھی
"تم یہاں کیا کر رہی ہوں ؟"
مکث کی آواز پہ وہ چونکی آب اس کے چہرے پہ چٹانوں جیسی سختی اگئی 
"یہ سب کیا ہے ؟"
"کیا ہے ؟"
وہ جانتا تھا لیکن انجان بنا رہا 
"تم تم !"
اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کے مکث کے ساتھ کیا کریں "مکث میں تمہیں آخری دفعہ کہہ رہی ہوں مجھے یہاں سے جانے دو ورنہ میں خود کو ختم کر ڈالوں گی ۔"
"پہلی بات ہےگھر میں شارپ نائف والا سکیشن لاک ہوچکا ہے ،
بالکنی اور ونڈوز بند ہے جیسے کے تم دیکھ چکی ہوں گی 
رسیِ نام کی چیز میرے گھر میں نہیں ہے 
زہر بھی کوئی نہیں ہے جس سے تم کھا کر مر جاوں 
رہی گیس کی بات تو وہ الیٹرک سسٹم ہے وہ میں بند کروا چکا ہوں ابھی تھوڑی دیر پہلے 
اور طریقوں میں مجھے یہی سب سے بیسٹ پتا ہے آب کیا کرو گی "۔
وہ چڑانے والی مسکراہٹ سے اسے دیکھ رہا تھا 
"مجھے کارڈ دوں "۔
حیا ضبط کے آخری حدِوں کو چھور رہی تھی 
"کون سا کارڈ ۔"
مکث کی کمال کی معصومیت بھی انتہا پر تھی 
"پینٹ ہاوس کے دروازے کا کارڈ "۔
حیا آہستہ لیکن زور دیتے ہوئے بولی 
"سوری وہ مجھے یاد نہیں آرہا صبح دیکھوں گا "۔
وہ اب سکیچنگ میں مصروف ہوچکا تھا 
حیا کو اتنا غصہ آیا کے اپنی پینٹنگز اٹھائی اور زور سے پھٹکی اور اس پر اپنے پیروں کی ضرب لگانے لگی 
اس نے دیکھا مکث کو کوئی فرق نہیں پڑ رہا تھا 
اسے اور غصہ آیا 
وہ دوسری پینٹنگز بھی اٹھا کر گِرانے لگی پھر ایک دم رُکی مکث کو آب بھی کوئی فرق نہیں پڑ رہا تھا 
اسے حیرانگی ہوئی او سی ڈی کے مرض کو اس سے کوئی فرق ہی نہیں پڑ رہا تھا۔
اس نے سیدھا مکث سے سکیچ بُک چھینی اور دور جاکے پھینکی 
"مجھے یہاں سے جانے دو ورنہ میں اس گھر کا حشر برباد کردو گی "۔
مکث اسے بے تاثر انداز میں دیکھ رہا تھا پھر اٹھا اس نے حیا کی پینٹنگز اٹھائی جس پہ کوئی نیشان نہیں پڑیں تھے کیوں کے حیا کہی گئی نہیں تھی تو اس کے جوتے کیسے گندئے ہوتے اس نے ہلکہ سا جھاڑا اور آرام سے رکھ کر سکیچ بک اٹھا کے اسے بھی جھاڑ کر رکھی 

حیا ابھی تک اپنی سانس کو ہموار کرنے کی کوشش کررہی تھی 
مکث نے تیزی سے اسے کھینچا اور اس کی کمر کے گرد بازو حمائل کیے 
حیا پھڑپھڑا اٹھی
"حیا مجھے مجبور نہ کرو کے میں اپنا کنڑول کھو بیٹھوں "۔
وہ اس کے بال اس کے کانوں کے پھیچے کرتے ہوئے بولا 
"ڈونٹ ٹچ می جسٹ لیو می یو اڈیٹ "۔
وہ حلق پھاڑ کر چلائی 
مکث نے گرفت مضبوط کرلی 
"مجھے اپنے بات رپیٹ کرنا نہیں پسند حیا اس لیے بعث کا کوئی فائدہ نہیں ہے چپ کر کے رہوں یہاں ورنہ 
۔۔۔"
"ورنہ کیا زبردستی کرو گے کر کے تو دکھاوں تمہارا منہ نہ تڑوادیامیرا نام بھی حیا فاطمہ نہیں ۔"
حیا کا لہجہ جتنا مضبوط تھا انکھیں اتنی گھبرائی ہوئی تھی 
مکث اس کی بات پہ ہنس پڑا اتنا ہنسا کے حیا اس کی بلاوجہ ہنسی پہ تاو آیا وہ مکث کی گرفت سے خود کو جھٹکے دیں جارہی تھی 
"بے بی گرل اتنی سی ہوں تم ان تین بندوں سے خود کو بچا نہیں پائی میں تو ان سے زیادہ پاورفل ہوں جن کی میں ہڈی پسلی ایک کر چکا ہوں مجھ سے کیسے بچوں گی "۔
وہ اپنا چہرہ اس کے کے چہرے پہ جکھا کر بولا 
مکث کی گرم سانسیں اس کے چہرئے کو جلا رہی تھی اس نے منہ نفرت سے دوسری طرف کیا 
"بکواس بند کرو خبردار مجھے بے ہودا نام سے بلایا "۔
چہرہ شدت سے سرخ ہوچکا تھا وہ ہر ممکن کوشش کررہی تھی مکث کی گرفت سے نکلے انسو اپنی بے بسی سے چھلکنے کے لیے بے تاب تھے 
وہ بار بار جھٹکے دیں رہی تھی خود کو اور مکث کی گرفت مضبوط سے مضبوط تر ہوتی جارہی تھی آخر میں تھک کر وہ شدت سے رو پڑی 
"چھوڑوں مجھے خدا کے لیے کیوں میری امی کی بات سچ کررہے ہوں کیوں ان کو بتانا چاہتے ہوں میں بد کردار کی بدتر قسم ہوں جو ایک گورے کے ساتھ ہوں "۔
مکث کی اس بات پہ گرفت ڈھیلی پڑ گئی وہ بہت حیرت سے حیا کو دیکھ رہا تھا 
"حیا!"
"امی پلیز مجھے آپ کے پاس آنا ہے آپ کی حیا کتنی اکیلی ہے ہر کوئی اس کے جسم کو استمعال کرنا چاہتا ہے امی حیا کو ان درندہ نما معاشرے سے بچا لے امی میں اکیلی ہوں امی پلیز مجھے یہاں سے نکال دیں 
مکث پہ عجیب سی کفیت تاری ہوگی حیا اب کی بار انگِلش میں بولے جارہی تھی مکث کو لگا جیسے پچیس سال پھیچے چلے گئے ہوں اسے وہ تڑپتا سِسکتا مکث نظر آیا جو اپنی ماں کو بُلا رہا تھا جو اس جہنم سے نکالے اسے حیا اپنی جگہ جبکہ ملنر خود میں محسوس ہوا 
اس کو ایک دم وحشت طاری ہوگئی اس نے حیا کو چھوڑ دیا 
اور دیوار کا سہارہ لیا اسے اپنی سانس رُکتی ہوئی محسوس ہوئی 
"ممی !"
وہ زور سے چیخا 
کے حیا روتے ہوئے ڈر گئی اس نے مکث کا چہرہ دیکھا جس کا چہرہ سرخ اور بلیو انکھیں سیاہ کالئ ہوئی وی تھی جو دیوار کو ایک دم وحشت زدہ ہوکر مُکا مارنے لگا 
حیا ایک دم اُچھلی وہ مکث کا جنونی انداز دیکھ رہی تھی 
جو چیخ رہا تھا 
"ممم مکث تم ۔۔
ﺟﺎﺭﯼ ﮨﮯ
 
Zubair Khan Afridi Diary【••Novel ღ ناول••】. Zubair Khan Afridi
knowledgemoney