The one 
Episode 7

حیا درلمان اگئی لیکن یہ درلمان لگ ہی نہیں رہا تھا یہ تو گویا ایک سنسان علاقے میں بڑی سے کھوٹی تھئ 
پریہاں کے لوگ کافئ اچھے تھے کافئ ملنسار اور رکھ رکھاو والے اور حد تک پڑھے لکھے حیا کو حیرت کے ساتھ خوشی ہوئی یہاں پر جو درلامن کا نقشا بنایا ہوا تھا یہ تو اس الگ تھا یہ جن کا تھا وہ عصمت بانو تھی جو حیا کو ساتھ لیکر ائی تھی سب ان کی بہت تعریف کرتے تھے حیا کو بھی بہت اچھی لگتی تھی انہوں نے حیا کو کہا تھا وہ اپنا ایےلیول کا اگزام دئے سکتی ہے اور حیا کو دلی خوشی ہوئی تھی وہ کسی طرح پڑھ لکھ کر امی کو منا لیے گی لیکن جانتی تھی یہ مشکل تھا لیکن وہ اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے کچھ بھی کرے گی 
جب اس نے کہا تو انہوں نے کچھ مہینوں کے لیے ٹال دیا اس بار حیا کو واقی عجیب لگا 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسے روم میں ائے ہوئے چار دن ہوگئے تھے شادی کی تیاریاں ہورہی تھی جن کی وہ دیکھ بال کررہی تھی 
مسز سبہان ان کی پوتی علینہ کی شادی تھی اور علینہ نے خاصا دھوم دھام کی شادی کی ڈیمانڈ کی تھی اس نے حیا کو بھی کہا کے وہ اس کی فنکشن میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیے گی اور اس کے ساتھ شاپنگ بھی کرے گی حیا نے منع کردیا لیکن علینہ نے اس کی نہیں سنی وہ آج اسے شاپنگ مال لیے گئی علینہ بہت باتونی تھی ہر چیز کے بارے میں بتائی جارہی تھی حیا بس ہلکی سی مسکراہٹ پہ سر ہلا کر سن رہی تھی 
"ارے واو ایسکریم حیا تم یہ بیگ پکرو میں ابھی لائی ویسے کون سا فلیور لو گی ۔"
‏Strawberries because you smell like that absolutely divine and breathtaking 
مکث کی آواز اس کی کانوں میں گونجی حیا ایک دم گھبڑا اٹھی "یہ کیا ہورہا ہے مجھے ۔"
"حیا بتاو نا ؟"
حیا آہستہ سے بولی "جو تمہیں پسند ہوں ۔"
"اچھا ٹھیک ہے ۔"
"یا اللّٰلہ یہ مکث میرے سر پڑ کیوں سوار ہوگیا ہے 
کل رات کو بھی مکث سپنے میں آیا جب وہ اس گھیرے میں لیے کر پوچھ رہا تھا تم ٹھیک تو ہوں ایسے بے شمار سے خیالت اس کے زہن میں آرہے تھے مکث کی باتیں اس کے کانوں میں گونج رہی تھی 
اس نے اپنے آپ کو جھٹکنے کے لیے اِدھر اُدھر دیکھنا شروع پھر اس نے ایک شاپ میں دیکھا جہاں بے شمار ٹی ویز لگے ہوئے تھے ان میں نیوز چینل چل رہی تھی کچھ میں اور حیا اپنے دماغ کو مکث کی سوچ کو دور رکھنے کے لیے غور سے دیکھنے لگی 
‏Multimillionaire Maximilian Martin didn't survive from the recently martin player crash in Bohemian forest 
یہ الفاظ تھے یا بم دھماکا جو حیا کے اعصاب کو بُری طرح توڑ ڈالا 
"نہیں ایسا نہیں ہوسکتا مکث کیسے جاسکتا وہ ۔"
"حیا یہ لو ائسکریم ۔"
لیکن حیا کو ہوش ہوتا تو وہ دھرم سے نیچے گری 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"کدھر ہے مارٹن پلیر؟" 
"وہ تو فلائی آف کر گئی "۔منیجر نے اسے بتایا 
"تم نے مکث کو کیسے دی پاگل تو نہیں ہوگے وہ نشے میں تھا ۔"
رائن غصے سے دھاڑا 
"ائیم سوری میری شفٹ ابھی ہوئی ہے اس سے پہلے کوئی اور تھا ۔"
"جیسز کرسٹ آب پتا نہیں کیا ہوگا ۔"
فریڈی پریشانی سے بولا 
"مکث تو کیا کررہا ہے ۔"
رائن آہستگی سے بولا 
ایک اٹینڈر آیا وہ کافی بدحواس لگ رہا تھا 
"کیا ہوا الیکث ؟"منیول جو کے یہاں کا ہیڈ تھا وہ بولا 
"وہ وہ "
۔۔۔۔"وہ وہ کیا ؟"
"ابھی ابھی خبر ائی ہے کے مارٹن پلیر نویگیشن میں لاپتا ہوگیا ہے "۔
"واٹ !"وہ تینوں چیچ پڑیں 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کی انکھ کھلی اس نے خود کو ایک نرم جگہ پر پایا 
ہاتھ اس سے اٹھائے نہیں جارہے تھے 
جسم میں سخت درد ہورہا تھا
اس نے اٹھنے کی کوشش کی کے کسی نے اس کا ہاتھ پکرا 
"لیٹے رہوں ۔۔۔"
اس نے دیکھا تو اس کی انکھ کھلی کی کھلی رہ گئی وہ ہو بہو اس کی کاپے تھے فرق یہ تھا ان کے بال اور دھاڑی سفید تھی کپڑے بھی سفید تھے چہرے اتنا پرنور تھا کے مکث ان کو اتنا نہ دیکھ سکا 
"تم تو مجھ پر گئے مکث ۔"
ان کی آواز پہ وہ کرنٹ کھا کر اٹھا اس کے جسم میں درد ہورہا تھا لیکن اسے پروا نہیں تھی 
"آپ کون ہے ؟"
وہ بامشکل انکھ اٹھا پایا سر بھی بُری طرح چکرا رہا تھا
"لیٹے رہوں بیٹا اتنا نشہ کرنے کو کس نے کہا تھا آپ کو 
کے آپ اپنا اکسیڈنٹ کرواتے بچے اللّٰلہ کے کرم سے ورنہ پتا نہیں کیا ہوجاتا ۔"
"مجھے پہلے بتاو کے تم ہوں کون؟"
مکث حلق پھاڑ کر چلایا 
"مکث میرے بچے میں تمہارا باپ ہوں حُسین آصف۔"
مکث کا چہرہ اس ان کی بات پر سفید ہوگیا 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حُسین آصف اپنے ماں باپ کا اکلوتا بیٹا تھا اور خاصا 
بدتمیز ہونے کے ساتھ ساتھ اوارہ بھی تھا ظاہر ہے بے شمار دولت پیسہ اور خاص کر خوبصورتی ہاں خوبصورتی میں تو وہ بہت بے مثال تھا اس کی خوبصورتی پہ تو ہزار لڑکیاں مرتی تھی اور اپنا آپ حُسین کے سامنے ٹرے کی طرح خود کو پیش کرتی 
اور حُسین کا کیا تھا وہ تو اپنی تعریف اور حسن کی قصیدے سن سن کر خاصا مغرور ہوگیا اس نے ساری حد پار کرنا شروع کردی پھر پڑھائی کے لیے یہ لندن گیا وہاں سے اس نے ایم بی بی ایس کرنا تھا وہاں پر بھی اس کی اکٹویٹز ایسی تھی لیکن پڑھائی کے باعث کچھ کم ہوگئی تھی اولویا سے اس کی ملاقات ایک کلب میں ہوئی تھی تھی اولویا اس یونانی دیوتا جیسا حسن رکھنے والے شخض سے انسپائرڈ ہوگئی اور جبکہ حُسین کو بے تہاشا حسین بلونڈ بالوں والی اولویا 
اولویا شروع میں کال گرل نہیں تھی وہ ایک بہت ہی رسپیکٹیبل گھرانے سے تعلق رکھتی تھی اس کے پیرنٹس خاصے سٹرک قسم کے Catholic تھے 
لیکن وہ رولز سے چڑتی تھی اس لیے وہ چھپ کر دوستوں کے ساتھ پہلی بار کلب گئی تھی وہاں پر اسے حسین نظر آیا 
حسین نے اسی دن اسے دوستی بڑھائی اور اولویا کے ساتھ اس کے تعلقات بڑھ گئے اور اتنے بڑھے کے اولویا پریگنٹ ہوگئی 
"حسیُن ڈیڈز گنا کل می مجھے بتاو آب میں کیا کرو ۔"
اولویا کے چہرے پہ پریشانی تھی 
"کرنا کیا ہے سویٹ ہارٹ بچہ ابورٹ کروالو 

حسین آرام سے بولا 
اولویا بھی مان گئی اور بچہ ابورٹ کروالیا 
اس کے بعد دو سال الوی کا گرجویشن ختم ہوا تو اس نے حُسین کو کہا کے وہ پاکستان دیکھنا چاہتی ہے 
حُسین نے اپنے باپ سے کُٹ نہیں کھانی تھی لاکھ وہ لبرل ہوتے لیکن وہ ایسی چیزیں بلکل بھی نہیں پسند کرتے تھے 
حُسین نے ٹال دیا اولی کو حُسین سے شادی کرنی تھی جب بھی وہ حُسین سے ٹاپک چھیرتی حُسین بات کو گھما دیتا ہے اس بار ان کی لڑائی ہوئی اور بہت سخت قسم کی اصل میں حُسین کی فادر نے اس کی شادی اپنے بھتیجی بتول سے تہہ کردی حُسین کو بھی اعتراض نہیں تھا حُسین بے شک جتنا ماڈرن تھا لیکن وہ اب ان مُردوں میں سے تھا جس کو بیوی پاکیزہ چاہیے ہوتی 
اس بار اولویا پھر پرگینٹ ہوگی وہ بھی جان بوجھ کر 
"تمہیں احتیاط کرنی تھی میں نے کیا بکواس کی تھی ۔"حُسین چلا اٹھا 
"چلاو مت مجھے بچہ چاہیے تھا وہ بھی ہمارا حُسین ۔"
"لیکن مجھے نہیں چاہیے سمجھی جاو ختم کرو اس بلا کو ۔"
"لیکن حُسین میں آب تم سے شادی کرنا چاہتی ہوں بے بی ہوگیا تو کیا ہوا آب ہم شادی کریں گے نا!"
۔"حُسین ہنس پڑا اولویا کو اس کی ہنسی عجیب لگی 
"مجھے پاگل کُتے نے کاٹا ہے کے ایک عیسائی لڑکی سے شادی کرو گا ۔"
اس کے بات پہ اولویا کا دل رُک گیا 
"کیا مطلب ہے تمہارا حُیسن ؟"
"مطلب سمپل ہے میں بھلا کیوں ایک عیسائی لڑکی سے شادی کرو گا میرا دماغ خراب ہے ۔"
"تو پھر اس عیسائی لڑکی کے ساتھ تم نے ریلشن شپ کیوں رکھا ۔"
وہ دُکھ سے بولی 
"تم جیسی صرف ٹائم پاس ہوتی ہیں جس سے دل نہیں بھرتا دوسرے کے پاس چلی جاتی ہوں دوسرے کے بعد تیسرے اسی طرح یہ سائیکل چلتا جاتا ہے ۔"
یہ بات اولویا کے دل کو لگی 
"حُیسن تم وہ پہلے لڑکے ہوں جس کو میں نے اپنا آپ سنوپا تم ایسا کیسے کہہ سکتے ہوں میں بلکل بھی ایسی نہیں ہوں ۔"
"تو مجھے بھی تو سونپا ہے میں بھی تو لڑکا ہوں وہ بھی جو تمہارے ریلجن سے بلونگ ہی نہیں کرتا آب یہ فوربڈن نہ ہوا "۔
"یہ تمہیں تب سوچنا چاہیے تھا بہرحال آب میں بچہ ضائع ہرگز نہیں کرو گی 
۔""سوری اولویا تم کسی خوش فہمی میں مت رہنا کے اولاد کے تھڑو تم مجھے مٹُھی میں کرلو میں نکیسٹ سنڈئے 
پاکستان جارہا ہوں میری شادی ہونے والی ہے ۔"
وہ اولویا کو ساکت چھوڑ کر نکل پڑا 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دروازے پہ دستک ہوئی 
حیا اٹھی دیکھا جمیلہ کو دیکھ کر حیران ہوئی 
"جمیلہ تم اس وقت ۔"
"حیا کچھ بھی کر کے یہاں سے بھاگو 
۔"
"کیا مطلب ؟"
"حیا یہ لوگ بہت کمینے ہیں بس تم سب سمجھ جاو پلیز یہاں سے بھاگوں ۔"
"کیا کہنا چارہی ہوں مجھے بلکل بھی سمجھ میں نہیں آرہی "
"حیا یہ لوگ تمہیں کہی بھیج رہی۔"
وہ اگے سے کچھ بولتی کی کس نے جمیلہ کے بال زور سے پکریں
"اچھا تو یہ پلان ہورہا تھا سالی 
!"
حیا کا چہرہ فق ہوگیا 
معاذ ادھر کام کرنے والے نے اس کے بال کھینچ کر غرا رہا تھا
حیا کو سمجھ میں نہیں ائی کے وہ اس وقت کیا کررہے 
دل بند ہوتا ہوا محسوس ہوا 
وہ بھاگنے لگی جب معاز نے اسے چھوڑ کر پکرا 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دروازے پہ دستک ہوئی 
اس کا دل ایک منٹ کے لیے رُک گیا ہمیشہ جب دروازہ بجتا تو حیا کو لگتا وہ مکث ہوگا اس کے سامنے کھڑے ہوکر اسے بتائے گا وہ واپس اگیا ہے اس کی اوبزیشن دیکھنے کو ملی گئ پہلے تو وہ خوش ہوگی پھر اس پر اپنی بڑھاس نکالی گی لڑئے گی اور اسے بلکل بھی نہیں بتائی گی کے وہ اس سے کتنا پیار کرتی ہے ہاں وہ جانتی ہے مکث نون مسلم ہے تو کیا ہوا وہ مسلمان تو ہوسکتا تھا اس کا ہوسکتاتھا جس نے اس کی جان اور عزت پچائی جو آج تک اس کے اپنے نہ کرسکے وہ مکث نے کیا ،جس نے اس کی کمفرٹ لیول کے مطابق ساری حرام شے باہر پھینکی حیا نے ہمیشہ اس کو نگیٹو پوانٹ سے دیکھا تھا لیکن جب وہ چلا گیا تو اس کو مکث میں ہر اچھائی نظر انے لگی اور اس بے انتہا محبت پر اسے لگتا جیسے اللّٰلہ نے اسے سزا دی ہے کے وہ مکث کو سیدھے راہ پر نہ لاسکی حلانکہ اس کے اختیار میں تھا 
اسے بہت تکلیف ہوتی کے مکث مکث ہی بن کر چلا گیا ایک مسلمان نہیں 
دروازے پہ دوبارہ دستک ہوئی 
حیا نے دروازہ کھولا اس کی انکھیں حیرت سے پھیل گئی 
"رررائن آپ !"
"اسلام و علیکم رائن نہیں محمد ولی !"
وہ مسکراتے ہوئے دھمیے لہجے میں بولا 
حیا کا منہ کھل گیا 
"محمد ولی !!!!"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پھر اس نے مکث کو جنم دیا مکث مسلمان کا بیٹا تھا تو ٹکنیکلی مسلم ہوتا لیکن اس نے بدلہ لینے کے لیے اسے عسیائی ہی کنسڈر کیا اور اس کا نام مکثملین ہی رکھا اولویا کے بابا نے اسے بے دخل کردیا کیونکہ وہ سمجھتے تھے اولویا نے گناہ کیا ہے 
اولویا اس چیز سے دلبرداشتہ کہی نوکری ڈھونڈنے لگی وہ اپنی دوست جنفیر کے ساتھ رہ رہی تھی
جنفیر ہی مکث کو سنبھال رہی تھی اسے کہی نوکری ہی نہیں مل رہی تھئ کسی بھی قسم کی وہ جنفیر پر بھی بوجھ بن رہی تھی ایک منٹ کے لیے وہ سوچتی کے مکث کی وجہ سے یہ ساری مصیبت ائی ہے وہ اس دنیا میں نہ اتا تو نہ وہ گھر سے نکالی جاتی نہ حُسین اس سے دور ہوتا 
گھر پہنچی تو جنفیر مکث کو کھانا کھلا رہی تھی 
"کیا ہوا منہ کیوں اترا ہے اولی ۔"
"ائیم جسٹ ٹرولی فیڈ آپ 
!"
اولویا رو پڑی 
‏Olivia just calm down go take a shower until Maxi will fall asleep so we can talk 
اولویا نے سر ہلایا 
اور تیار ہونے چلی گی لیکن اس کا آج دل رو رہا تھا اسے حسین یاد آرہا تھا 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حسین کی شادی بتول سے ہوگی حُسین بہت خوش تھا لیکن اس کی خوشی چند دنوں تک ہی تھی کیونکہ بتول ہنی مون کے چھٹے دن کہی غائب ہوگئی 
حُسین بدحواس ہر جگہ ڈھونڈتا رہا اسے ہوٹل کے روم میں ایک خط ملا
حُسین نے جوہی پڑھا وہ ساکت ہوگیا 
وہ اسے چھوڑ کر اپنے بوئی فرینڈ کے ساتھ بھاگ۔ گئی تھی اس مرد کے لیے کتنی بے عزتی ہوگی جو عورت اسے ٹکھرا کر کسی اور کے ساتھ بھاگ گئی مطلب اس مرد پہ کوئی نقص تھا کوئی کمی تھی جس عورت نے اسے کسی اور مرد سے بہتر سمجھا 
پھر ایک دم اسے ایک بات یاد ائی 
"نیک مرد کے لیے نیک عورت اور بد مرد کے لیے بد عورت " 
یہ بات اس کی کلاس میٹ رومینہ نے ایک ڈبیٹ میں کہی تھی 
"اللّلہ سبحان تعالی قران پاک سورہ نور ایات نمبر ۲۶میں ارشاد فرماتے ہیں 
"گندیا گندوں کے لیے اور گندے گندیوں کے لیے 
ستھریا ستھروں کے لیے اور ستھرے ستھریا کے لیے "

یہ بات حُسین نے بے دھیانی میں سنی تھی لیکن آج یہ بات اچانک اس کے دماغ میں اگئی 
یہ بات حُسین کو وحشت زدہ کر گئی 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رائن محمد ولی کب بنے کا سفر تہہ ہوا جب اسے مکث کی موت کا پتا چلا اس دن رائن ہارپڑ کو نروس بریک ڈوان ہوگیا 
اس سے یہ بات برداشت ہی نہیں ہوئی کے مکث اسے چھوڑ کر چلا گیا اس کا جگری دوست جو بہت دکھ میں تھا بہت تکلیف میں تھا 
اس نے جیسز سے بہت دعا کی تھی کے مکث کو بچا لیے لیکن وہ نہ بچ سکا اس لگا اس کی یہ دعا قبول ہی نہیں ہوئی کیونکہ وہ گناہ گار تھا پھر وہ بار بار چرچ جانے لگا سارے کھتولک رائٹس پورے کرنے لگا اسے آب نیند نہیں اتی تھی اس کے اندر آب بھی بے چینی تھی عجیب سی اس کے دل میں ایک خوف اگیا تھا جو اسے نہیں معلوم تھا وہ اتنا پریشان رہنے لگا کے کیلن کو اس کی فکر ہوگئی کے مکث کی موت کا اس نے کچھ زیادہ ہی اثر لیا ہے رائن کو آب جیسز پہ بلیو ہی نہیں رہا جو اسے ایک پل بھی سکون نہیں دیں رہا تھا اسے حیا سے ملنا تھا جس کے چہرے کا سکون یاد کر کے اسے رشک آیا جب حیا مکث کی موت کے لیے دور سے انہیں دیکھ رئی تھی جو اس کی ڈیڈ بوڈی کو دفنا رہے تھے 
رائن نے دور سے دیکھ لیا اور اسے حیاکو دیکھ کر غصہ آیا اس دل کررہا تھا اس لڑکی کو ختم کر ڈالے جس نے اس کی دوست کی جان لی 
"تم یہاں کیا کررہی ہوں 
حیا آرام سے مڑی اور پُر سکون ہوکر اسے دیکھا 
"مر گیا نا وہ خوش ہوگئی تم آب کیا کررہی ہوں جاو یہاں سے ۔"
رائن نے اسےزور سےدھکادیا
حیا لڑکھڑائی لیکن وہ پھر بھی پُر سکون ہوکر اسے دیکھتے ہوئے بولی 
"پلیز رائن مجھے ایک بار تو اسے دیکھنے دیں ۔"
"کیا دیکھ کے کرو گی جلا ہواوجود جس نے اس کے چہرے کا نقش تک نہیں رہنے دیا اور وہ بھی سب تمہاری وجہ سے ہوا ہے اگر تم اسے چھوڑ کر نہ جاتی وہ آج میرے سامنے زندہ ہوتا ۔"
رائن بھرائی آواز میں چلایا 
"تم نے میرا دوست میرا بھائی میرا سب کچھ چھینا ہے حیا خدا تمہیں کھبی سکون میں نہ رکھے دفع ہوجاو یہاں سے ۔"
رائن کو کو حیا کا سکون زہر لگا اس لڑکی کی وجہ سے وہ گیا ہے وہ لڑکی پُرسکون تھی اور وہ رات سے پاگل ہورہا ہے اسے ایک پل بھی قرار نہیں آرہا 
لیکن آب اسے حیا کے سکون پر رشک آیا وہ ہمیشہ حیا کو ٹرڈیلک میں کام کرتے ہوئے دیکھتا تھا اور اس کے چہرے پہ سکون دیکھ کر اسے غصہ آتا لیکن ان تین مہینے میں رائن کو اس جیسا سکون چاہیے تھا 
اس لیے وہ اس سے ملنے گیا کے راستے میں اس کی گاڑی کسی کو لگ گئی رائن کا دماغ بھگ سے اڑا 
وہ فورن کار سے اترا 
اس نے دیکھا ایک بزرگ آدمی تھے جنہوں نے سفید شلوار اور سفید قمیض پہنی ہوئی تھی لیکن ان کا چہرہ دیکھ کے ناجانے اس سے کیوں لگا جیسے وہ مکث کو دیکھ رہا ہوں ان کی شکل ۂوبہو مکث سے ملتی تھی ان کو سر پہ چوٹ لگی تھی ان کو بٹھا کر ہوسپٹل لیے کر گیا سر کے چوٹ کے علاوہ انہیں کچھ زیادہ نقصان نہیں ہوا تھا 
رائن اگلے دن ان سے ملنے ہوسپٹل گیا تھا
"ائیم سوری سر میری وجہ سے آپ زخمی ہوگئے ۔"
رائن مودب انداز میں کھڑا ہوا ان سے بولا 
وہ ہلکہ سا مسکرا اٹھے 
"کوئی بات نہیں بچے اس میں تمہاری کوئی غلطی نہیں تھی پہلے ہی پریشان ہوں اتنا سٹرس مت لیے لینا صحت خراب کرو گے اپنی پہلے ہی نیند نہیں پوری لگ رہی تمہاری ۔"
رائن حیرت سے دیکھنے لگا 
"آپ کو کیسے پتا ۔"
ان کی مسکراہٹ مزید گہری ہوگئی 
"کھڑے کیوں ہوں بیٹھ جاو ہوسپٹل والے پابندی تھوڑی لگائے گے ۔"
وہ آرام سے بیٹھ کر انہیں دیکھنے لگا 
"کس چیز نے تمہاری نیند حرام کردی ہے بیٹا کھل کر بتاو ۔"
رائن کی انکھیں انسو سے بھر گئی 
"سر میرے اندر ایک عجیب سی بے چینی پھیل گئی ہے 
نہ دن کو چین ہے نہ رات کو ،ہر چیز سے جیسے دل اچاٹ ہوگیا ہے مجھے لوگوں کے ساتھ ساتھ اپنے آپ سے بھی نفرت محسوس ہوتی ہے لوگوں کی مسکراہٹ دیکھ کر میرا دماغ میں شرارے پھوٹنے لگتے ہیں مجھے ان کی سمائل اور ان کا اطمنان زہر لگتا ہے 

وہ جیسے اگے بولنا نہیں چارہا تھا ایک دم چپ ہوکے نظریں جکھا گیا 
"چپ کیوں ہوگئے بچے کچھ بول رہے تھے۔" 
"سوری میں نے کچھ غلط کہہ دیا ۔"
وہ شرمندگی سے سر جھکا گیا 
وہ ہنس پڑیں 
"بے چینی کب سے شروع ہوئی آپ کو ؟"
"مکث کی موت بعد ۔"
اس نے مدھم سا کہا
جبکہ انکھوں کی سرخی بڑھتی جارہی تھی 
"مکث کون ؟"
"مکث میرا دوست میرا بھائی وہ میرا سب کچھ تھا وہ مجھے چھوڑ کر چلا گیا ۔"
"تو بیٹا وہ تو خدا کی امانت تھی اُس کا وقت تھا اسے تو جانا تھا 
۔"ائی نو بٹ وائی اٹ فیل سو پین فل میں نہ کچھ کھا پا رہا ہوں نہ سو پارہا ہوں میرا دل ہر شہ سے اچاٹ ہوگیا ہے میں اس چیز سے نجات چاہتا ہوں لیکن ائی جسٹ کانٹ ۔۔۔"
رائن تھکے ہوئے انداز سے بولا 

"ینگ مین آپ کسی دن میرے گھر آئیے۔ کافی پیتے ہیں باتیں بھی ہوگی یہ لو میرا نمبر کل تک خیر انہوں نے کہا ہے میں ڈسچارچ ہوجاو گا تم انا کل مجھے ڈراپ بھی کرلینا اور تم سے باتیں بھی ہوجائیں گی ابھی بنا کچھ سوچے بس کھانا کھاوں اور آرام سے سوجاوں جسٹ ڈونٹ تھنک ٹو مچ زیادہ سوچنا دماغ کو ہی خراب کرتا ہے ۔"
جاری ہے
 
Zubair Khan Afridi Diary【••Novel ღ ناول••】. Zubair Khan Afridi
knowledgemoney