The one 
Episode 8

تھی تو یہ عام سی تجاویز پر 
ان کی لفظوں میں ایسی مٹھاس تھی کے رائن انکار نہ کرسکا اور حامی بڑھ کر اٹھ پڑا 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"آب بتاوں رونا کس بات پر آرہا ہے یہ مت کہنا نوکری میں جانتی ہوں نوکری کی بات پر تم رو نہیں سکتی 
۔"جنفیر نے اس کا ہاتھ پکر کر پوچھا 
"ایک چالیس سال کا رچ بزنس مین ہے ولیم منویل 
اولویا اہستگی سے بولی 
"اچھا تو کون ہے کیسے ملاقات ہوئی 
"میں ولیم انٹرپرایسز گئی تھی وہاں رسپشنسٹ کے لیے 
مجھے وہاں نوکری نہ مل سکی واپس مڑنے لگی کے کسی سے ٹکرائی 
دیکھا ایک ہنڈسم مین نے مجھے پکرا ہوا تھا میں اسے پہچان گئی یہ وہی ولیم تھا اس کمپنی کا مالک میں اسے سوری بولتے ہوئے جانے لگی کے اس نے میرا بازو پکرا 
اور پوچھنے لگا کے ہو از دس لولی ومین 
میں بے اسے اپنا نام بتایا اور اس نے یہاں انے کی ریزن پوچھی 
تو وہ سر ہلاتا ہوا میرا ہاتھ پکر چکا تھا اور اپنے الویٹر میں لیے گیا 
میں نے مزاحمت بھی نہ کی لیکن یہ ضرور پوچھا کے آپ مجھے کہاں لیےکر جارہے ہیں لیکن پتا نہیں اسے کیا ہوا اس نےمیرے گال چھوئے اور کہا تمہارے لیے ایک کام ہے 
۔""او کیسا کام ؟"

جنفیر بولی 
اولویا نے جو کہا اس سے جنفیر کا منہ کھل گیا 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
معاز نے حیا کے بال پکرے 
حیا درد سے چیخ اٹھی 
"چھوڑوں مجھے ۔۔۔"
"پاگل سمجھا ہوا ہے ہمیں پورے اٹھ لاکھ مل رہے ہیں ایسے ہی چھوڑ دیں "۔
معاز طنزیا انداز میں بولا 
حیا نے اپنا ناخنوں کا استمعال اس کے چہرے پر کیا 
جس پر اس نے غصے سے اسے بھر پور تماچا مارا اور پھر مارتا گیا 
حیا نے ایک بار پھر مزاحمت کی لیکن اس کا اس سے نقصان ہی ہوا کیونکہ دوسرے بندے نے حیا کو کھینچ کر دیوار پر اس کا سر مارا 
حیا کی انکھوں میں اندھیرا چھا گیا 
"یہ کیا کیا تم نے !"
اسے کسی کی چیچنے کی آواز ائی تھی 
پھر وہ زمین پر گر پڑی 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"کیا کہا تم نے ؟"
"مکث میرے بچے میں تمہارا باپ ہوں۔"
‏Not another word just don't you dare say that . I am your son 
مکث کی انکھیں سرخ جبکہ گلا رندھ گیا 
"میں جانتا ہوں مکث میری وجہ سے تمہیں مسلمان کی اولاد ۔۔۔
"ایک منٹ ایک منٹ مسڑ حُسین میں مسلمان کی اولاد آپ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں پتا بھی ہے آپ کو مجھے اولویا 
نے جنم دیا ہے 
‏Olivia The famous hooker of London
تو آپ کیسے کہہ سکتے ہیں میں آپ کا بیٹا ہوں 
۔"اس نے چیختے ہوئے کہا
حُسین آصف کے چہرے پر شدید قسم کی تکلیف تھی آن کی انکھیں ضبط کی باوجود سُرخ ہوگئی تھی 
"بس کرو مکث بس کرو مجھے پتا ہے تم میرے بیٹے ہوں یہ نہیں دیکھ رہے ہماری شکل کتنی ملتی ہیں 
مکث نے ایک جاندار قہقہ لگایا 
"واو ائی مین واو آپ کی سوچ پر تالیا چلوں میں آپ کا بیٹا ثابت بھی ہوگیا لیکن میں تمہیں اپنا باپ نہیں مانتا از داٹ کلیر نہیں مانتا میں صرف اور صرف ونیسا مارٹن کا بیٹا ہوں نہ تمہارا نہ اولویا کا ۔"مکث تیزی سے اٹھا اور دروازہ کھولا تو دیکھا بند تھا مکث نے زور سے کھولنے کی کوشش کی 
"یہ کھل کیوں نہیں رہا مجھے بتاو ۔"
اس نے تیز نظروں سے ساکت بیٹھے ہوئے حُسین آصف کو دیکھا 
"میں کچھ بھونک رہا ہوں بولوں گے مجھے یہاں کیا لانے کا مقصد ہے تمہارا "؟
"پوری دنیا کے لیے مکث مر چکا ہے ۔"
ان کی آہستہ آواز پر مکث جہاں تھا وہی کھڑا کا کھڑا رہا 
"کیا مطلب کیا کہنا چاہتے ہوں 
؟""پورے دُنیا کے لیے مکثملین مارٹن مارٹن پلیر کریش میں مرچکا ہے آب سے تم مکثملین مارٹن نہیں بلکہ آب تمہیں 
مسلمان بن کے یہ دنیا گزارنی ہے میرا بیٹا بن کے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حیا کی انکھ کُھلی تو اس نے خود کو اندھیرئے میں پایا اسے لگا وہ مر گئی ہے کیا وہ قبر میں ہے لیکن جب اس پتا چلا کے 
اس کے ہاتھ اور پیر پھیچے سے باندھے گئے ہیں اور جہاں وہ تھی وہ بار بار جگہ ہل رہی تھی اسے سمجھ میں اگئی وہ گاڑی کے ڈِگی میں ہے اس کا دل کانپ اٹھا کیا اسے بیچ دیا گیا ہے آب اسے کے ساتھ کیا ہونے والا تھا اسے باخوبی پتا تھا وہ شدت سے رونے لگی 
"پیارے اللّٰلہ پلیز مجھے زِلت اور رسوائی سے بچا لے میرے سے اور برداشت نہیں ہوگا"
چہرہ گرمی کے باعث پسینے سے بھر چکا تھا 
سانس بار بار اٹک رہی تھی 
اسے اپنی انکھیں دوبارہ بند ہوتی محسوس ہوئی 
لیکن زبان پہ ابھی تک اللّٰلہ سے فریاد جاری تھی 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میں ان کے گھر پہنچ چکا تھا جب میں نے اِن کا گھر دیکھا میں دنگ رہ گیا اتنی خوبصورت جگہ کو گھر نہیں اسے Mansion 
کہا جاسکتا ہے میں خود بھی امیر تھا میرے پہنے اُوڑھنے سے پتا چل جاتا تھا کے میں بلینر ہو لیکن میں نے تو انہیں اس قدر سادھے حلیے میں دیکھا تھا تو مجھے حیرت ہی حیرت تھی بہر حال ان کے نوکر نے مجھےاندر انے دیا گھر جتنا باہر سے شاندار تھا اندر سے اُتنا ہی سادہ 
بس کافی پینٹنگز اور کیلی گرافی تھی عربی میں اور کسی جگہ کی بے شمار تصویریں تھی بعد میں پتا چلا کے یہ خانہ کعبہ اور روضہ رسولﷺ
کی تصویریں ہیں مجھے ان کے بندئے نے اپنے ساتھ چلنے کا اشارہ کیا اور ایک بہت بڑے ہال میں لیے گیا وہ ہال اتنا بڑا تھا جہاں صرف سفید چادر بھِچی ہوئی تھی ساتھ ساتھ بڑی بڑی کھڑکیاں کھُلی ہوئی تھی جو ُدوپہر کی دھوپ کے ساتھ ساتھ بے انتہا مہکتی خشبو پھیلی ہوئی تھی جو عود کی تھی اس پر تو میں دیوانہ ہوگیا ایسا سکون مجھے اپنے سمر ہاوس میں کھبی محسوس نہیں ہوا سامنے دیوار پر آللّٰلہ اور رُسول ﷺ
کے نام کی خوبصورت سی نقاشی( carving ) ہوئی وی تھی میں دیکھ رہا تھا جب کسی کی نرم آواز پر مُڑا 
"ارے رائن آپ اگئے "
وہ دراوزے پہ کھڑئے ہوئے تھے انہوں نے کالی شلوارقمیض پہنی ہوئی تھی جوانی میں یقین سے کہہ سکتا ہو یہ بہت خوبصورت ہوگئے 
"ہائے سر ۔"
"اسلام و علیکم آو بیٹھوں بچے۔"
انہوں نے اتنا کہا اور میرے گلے لگ گئے 
میں دنگ رہ گیا مسلمان اتنے ملنسار ہوتے ہیں یہ مجھے آج پتا چل رہا تھا کم سے کم حیا کے اکسپرینس پر مجھے یہی لگا تھا 
میں بیٹھ گیا 
"اور ٹھیک ہے آپ بیٹا طبعیت درست ہوئی آپ کی "
میں مسکرا اٹھا 
سر یہ سوال تو مجھے آپ سے پوچھنا چاہیے تھا 
وہ ہلکہ سا ہنس پڑیں 
"میں بلکل ٹھیک ہوں یار اللّٰلہ کا شکر ہے ویسے بتاو نیند ائی آپ کو ؟"
ان کو ابھی تک میری نیند کی پروا تھی اتنا تو میرے اپنے ماں باپ کو نہیں تھی ان دنوں کی سپریشن ہوچکی تھی اور وہ اپنی اپنی دُنیا میں مگن تھے ۔ 
میں نے نفی میں سر ہلایا 
"ضرور اپنے دوست کو سوچا ہوگا آپ نے خیر یہ لو 
ایک ملازم نے مجھے ٹرئے میں سادہ سا پانی پیش کیا 
پانی !میں جتنے بھی لوگوں کے گھر میں گیا وہاں پر جوس اور وائن ہی پیش کیا جاتا پر یہ تو مسلمان ہے یہ کیسے پیش کرتے بھلا 
مجھے غور سے پانی کو دیکھتے ہوئے بول پڑئے 
"لو بیٹا کیا آپ کو پانی نہیں پسند ؟"
میں چونکہ اور بولا 
"نہیں ایسی بات نہیں ہے سر ۔"
میں نے چپ کر کے لیے لیا اور پینے لگا لیکن یہ پانی بہت مختلف تھا بہت میٹھا بہت سکون بخشنے والا اتنا مزئےدار تو مجھے کوئی مشروب آج تک نہیں لگا 
انہوں نے میری پسند کو محسوس کیا تو بولے 
"کیسا لگا بیٹا اچھا ہے نا ؟"
میں پھر مسکرا اٹھا" سر اس سے بہترین چیز میں نے آج تک نہیں پی یہ پانی ہے لیکن مجھے نہیں لگتا یہ عام پانی ہے ۔"
ان کی انکھیں چمک اٹھی اور لب مسکرا اٹھیں 
۔"یہ آبِ زم زم ہے بیٹا میں جب عمرہ کرنے گیا تھا وہاں سے لیے کر ایا ہوں ۔"
"عمرہ؟؟"
مجھے ان کی بات سمجھ میں نہیں ائی 
‏My son Umrah is an Islamic Pilgrimage to mecca ,saudi Arabia 
‏in easy words it means to visit a populated place 
"اچھا تو یہ آپ کے ایک عبادت کا طریقہ ہے "۔
میں بولا 
"ہاں لیکن ہماری یہ کمپلسری عبادت نہیں ہے ہماری کمپلسری عبادت کچھ اور ہیں جیسے نماز ،زکوةٰ
،حج 
،روزہ "۔۔۔
آب مجھے ان کی یہ والی بات بھی خاصی سمجھ میں نہیں ائی 
"نہیں سمجھ ائی ہوگی کوئی بات نہیں اور پیو گے۔"
میں شرمندگی سے مسکرا اٹھا زندگی میں پہلی دفعہ ناجانے کیوں شرمندہ ہوا 
میں پیتے ہوئے ان سے بولا 
"سر یہ پانی کس جگہ پہ ہوتا ہے ۔"
"ابھی بتایا تو تھا کے سعودی عرب سے لیے کر ایا ہوں ۔"
"وہاں کوئی خاص لیک ہے ؟"
میں بولا 
انہوں نے نفی میں سر ہلایا 
"یہ ایک وادی سے نکالا تھا اور وہ ایک ایسا وادی تھا جو بلکل سوکھا ہوا ،جہاں آبادی نام کی چیز نہیں تھی صرف صحرا تھا پھر وہاں سے پانی کا فوارہ نکلا۔"
‏ Wow sounds a miracle !sir what was a history behind it 
میرے لہجے میں حیرت تھی
‏Miracle do happen son 
"آپ ُسنا چاہو گے بزی تو نہیں ہو ۔"
"نہیں بلکل بھی نہیں میں سنا چاہو گا ۔"
"ہمارے نبی حضرت ابراہیم عليه السلام نے آللّٰلہ کے حکم پر اپنی بیوی اور انفنٹ بے بی کو صحرا میں چھوڑ ائے جہاں کوئی نہیں تھا ۔"
میں دنگ رہ گیا لیکن اگے سے کچھ نہ بولا 
"وہاں پر نہ رہنے کی جگہ تھی نہ کھانے نہ پینے کو 
عجیب بات ہے نا کے -انہوں نے کیسے survive کیا ہوگا
آب بچے کو اتنی scorching heat میں تو پیاس لگے گی ظاہر ہے کسی بھی انسان کو تیز دھوپ میں پیاس لگ جاتی ہے تو وہ تو پھر ایک صحرا تھا جہاں کڑکتی دھوپ میں تو انسان مرنے کے قریب ہوتا ہے ۔"
میں نے سر اثبات میں ہلایا
"تو وہ بچہ رونے لگا اس کی ماں گھبڑا اُٹھی کے آب کیا کریں یہاں پر تو نہ ندی ہے نہ کوئی پانی کی نہر اسے اپنی پیاس کی پروا نہیں تھی اسے بچے کی پروا تھی تو وہ back and forth ان دو وادیوں پر چلنے لگی تاکے دیکھ سکے کے وہاں پانی ہے کے نہیں اور پورے سات بار چلنے کے بعد پانی باہر اگیا اور ایسی جگہ پہ آیا جہاں وہ بچہ پیاس کی شدت سے اپنے پیر ہلا رہا تھا اس پانی کو آبِ زم زم کہتے ہیں "۔
‏This is such an astounding thing I have ever heard before 
(میں نے زندگی میں اج تک ایسا زبردست واقعہ نہیں سنا )
"مجھے لگا آپ میری بات پہ یقین نہیں کریں گے ۔"
ان کی اس بات پر میں بُری طرح حیران ہوا 
"سر آپ کو ایسا کیوں لگا میں آپ کی بات پر یقین نہیں کرو گا ۔"
بہت سے لوگوں کو خاص کر کھتولک کو لگتا ہے یہ سب فیک کہانی ہے 
"پر مجھے نہیں لگی یہ فیک ۔"
میں مضبوطی سے بولا 
"لیکن کیوں آپ کو یہ فیک کیوں نہیں لگی ۔"
"کیونکہ سر یہ پانی ہی یہ سچائی بتارہا ہے آج تک اتنی زبردست چیز میں نے نہیں پی سچ میں اور آپ جھوٹ بلکل بھی نہیں بول سکتے مریکل ڈو ہیپن ۔"
اِن کا چہرہ خوشی سے کِھل اٹھا 
‏God bless you son
ُاو کچھ کھا پی لیتے ہیں پھر میری نماز کا وقت ہوجائےگا
میں ان کے ساتھ کھانے کے لیے اُٹھ پڑا میرا دل کررہا تھا میں اس پُرسکون ماحول میں ہمیشہ کے لیے بیٹھا رہو۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"تم کیا کہتی ہوں ؟"
اولویا نے اسے پوچھا 
اولویا بات تب ٹھیک ہوتی اگر تمہارے سر پر مکث کی "زمہ داری نہ ہوتی بوئی فرینڈ تک ٹھیک تھا لیکن یہ بہت ریسکی گیم ہے ۔" 
"مجھے آب کسی کی پروا نہیں ہے جب اس کے باپ کو اس کی پروا نہیں تھی تو میں کیوں کرو "
اولویا کے لہجے میں بے حسی اگئی 
"یہ مت بھولو اولی کے تم نے کہا تھا میں بچہ پیدا کرو گی اور تم نے جان بوجھ کر پریکوشن نہیں لی تم نے اپنی مرضی سے مکث کو پرفر کیا تھا حُسین کے اوپر آب جب اس بچے کو تمہاری ضرورت ہے تو پھر ایسے کیوں ریکائٹ کررہی ہو ۔"
اولویا نے بیر کی بوتل منہ سے لگائی 
"تو پھر تم بتاو میں کیا کرو میں نے تو صرف حُسین کو پانے کے لیے سب کیا تھا مجھے کیا پتا تھا کے میری تدبیر الٹی ہوجائے گی 
‏Olivia but you eventually did put you're relationship on the line that's why you're screwed up now 
"جو بھی ہو لیکن مجھے آب ایسے نہیں بیٹھنا میں ویٹریس بن کے مکث کو نہیں پال سکتی جب حُسین عیاشی کررہا ہے تو میرے لیے بھی ایک فن ہے میں امیر بھی ہوجاو گی مجھ کسی کا محتاج نہیں بنا پڑیں گا ۔"
‏Olivia just think about it been a hooker is 
‏not appropriate thing 
"آب کوئی بھی چیز میرے لیے صیح نہیں ہے میں نے ابھی ولیم کے ساتھ وقت گزارا ہے مجھے وہ اچھا لگا کافی امیر ہے خوبصورت بھی ہے اور دیکھوں مجھے اس نے مرسیڈیز کی چابی بھی دی ہے ۔"
اس نے اپنے بیگ سے چابی نکالی 
"مجھے یہ کام سب سے بیسٹ لگ رہا اوپر سے مکث کا خرچہ بھی پورا ہوگا میں فائل لائی ہو ابھی اس پہ سائن کرتی ہو ۔"
"اولی ایک دفعہ سوچ لو کیا پتا حُسین واپس اجائے ۔"
جنفیر نے اسے روکنا چاہا 
"حُسین نے آب کھبی نہیں انا اگر آیا تو تب بھی میں اس کی نہیں بنو گی کیونکہ اس نے مجھے ریجیکٹ کیا ہے ۔"
وہ اپنے انسو کو اندر اتارتے ہوئے تیزی سے بھاگئ
میں درد میں تھی 
تو نہ جان سکا 
میں سسِک رہی تھی 
تو نہ جان سکا 
ہم کس راہ پر چل پڑئے ہیں 
تو نہ سمجھ سکا 
آب تو لوٹ کر بھی آجائیں 
تو پھر وقت نہ سمجھ سکا 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"کام کیا کرتے ہو ؟"
انہوں نے مجھ سے پوچھا 
میں نے سوپ کا چمچ باول میں رکھا
"سر بزنس کرتا ہو۔"
"ہوں کس قسم کا بزنس؟"
مجھے ان کے سوال پہ حیرانی نہیں ہونی چاہیںے تھی لیکن ہوئی 
"ام سر کون کون سے بزنس بتاوں۔"
"ارے کیا بہت ہیں ۔"
وہ ہنس کر بولے 
"پہلے میں نے اور مکث نے دو ایپ متعارف کروائے اس کے بعد دو ہوٹلز ہیں پھر ائیر لائن کا بزنس ہے اینڈ ابھی دو کلبز کھولے ہیں ایک پروگ میں دوسرا اسڑیا
میں ۔"
"ہوں ۔۔۔۔۔ اچھا انٹرسٹ تو نہیں لیتے ۔"
یہ اب کی پہلی عجیب بات تھی 
"جی۔۔۔۔۔؟"
"سوری میں نے کچھ غلط کہہ دیا ۔۔"
"نہیں نہیں سر بس مجھے عجیب لگا لیکن نہیں انٹرسٹ والی نوبت فل حال نہیں ائی مکث بہت فیر گیم کھیلتا تھا وہ وہ کام کرتا تھا جس سے کسی کو نقصان نہ ہوں ایون اس کی اپنے فائدئےکی بات ہوتی یا دوسرے کے بھی ۔"میں نے سچ بولا 
"آپ کے دوست کی سوچ تو بہت اچھی تھی ۔"
میں پھیکا سا مسکرایا
"ہاں اس لیے تو وہ سب سے مختلف تھا ۔"
"تو کام پر جارہے ہیں آپ ؟"
"نہیں سر سارے کام میرا منیجر سنبھال رہا ہے ۔"
"ہوں ۔۔۔۔"
"سر اگر آپ بُرا نہ مانے تو آپ سے ملنے کے لیے اسکتا ہو؟"
ان کے چہرئے پہ مسرت امیز خوشی ائی 
"مجھے خوشی ہوگی بیٹے میں اپنے لیکچر کے لیے ایک ہفتے بعد اسڑیلایا جارہا ہو دو دن بعد واپس اجاو گا اس کے بعد اتے رہنا ۔"
"سر آپ پروفسر ہے ؟"
میں بولا 
وہ ہنس پڑئے
"نہیں بیٹا میں سکولر کے ساتھ ڈاکڑ بھی ہو ۔"
"او اچھا سو یو آر اسلامک سکولر ۔"
‏Yeah 
"اچھا بیٹا اگر آپ مائنڈ نہ کریں میری نماز کا وقت ہوگیا ہے ۔"
"ضرور سر آب میں چلتا ہو آپ سے مل کر مجھے بہت اچھا لگا ۔"
وہ میرے گلے لگ گئے 
"ایک سکینڈ میں ابھی آیا ۔"
وہ کہہ کر چلے گئے میں اٰردگرد اس جگہ کو دیکھتا رہا 
"یہ لو بیٹا ۔"
انہوں نے مجھے ایک بڑا سا گرین پیکجنگ کا پیکٹ دیا 
"سر اس میں کیا ہے ۔"
میں نے ان سے پوچھا 
"آپ کو زم زم کا پانی اچھا لگا تھا اس لیے میں آپ کو دیں رہا ہوں لیکن بیٹا بہت احتیاط سے پینا اور دائے ہاتھ کا استعمال کرنا ۔"
میں شرمندگی سے مسکرا اٹھا 
"آج سے پہلے مجھے کسی نے اتنا بہترین تحفہ نہیں دیا تھینک یو سر "
"اللّٰلہ آپ کو خوش رکھے ۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حُسین اولویا سے ملنے لندن گیا تھا لیکن پتا چلا اس کو گھر سے نکال دیا ہے اسے ڈھونڈنے کے لیے وہ جنفیر تک پہنچ آیا 
جنفیر نے دروازہ کھولا تو اسے دیکھ کر حیران ہوئی اسے تو وہ حُسین لگ ہی نہیں رہا تھا 
دھاڑی ،ائی سائٹ کلاسس شلوار قمیض ،ٹخنوں سے اوپر شلوار ،انکھیں جھکی ہوئی 
‏Oh my God Hussain is that you !I just can 
‏believe it you just totally change in 10 years
"جنفیر تم مجھے اولویا کا پتا بتا سکتئ ہو۔ "
حُسین دھیمے لہجے میں بولا 
"اولویا ! اولویا سے کیوں ملنا ہے ؟"
اس کے لہجے میں سختی اگئی 
"میں جانتا ہو جنفیر میں بہت زیادہ لیٹ آیا ہو مجھے پتا ہے لیکن مجھے بدلنے میں بھی تو بہت ٹائم لگا ہے میرے ڈیڈ نے مجھے گھر سے نکال دیا میں کدِھر جاتا میرے پاس نہ پیسہ تھا کے بھاگ کر لندن آجاتا اولویا سے ملنے پلیز اگر اس کی شادئ ہوگئی ہے پھر بھی دئے دو پتا پلیز مجھے اس سے ملنا ہے ۔"
جنفیر نے اس کے بات پہ یقین کیا اور اس نے اولویا کا پتا بتا کر دروازہ بند کردیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حُسین نے بے تہاشا نشہ کرنا شروع کردیا اور بے شمار ڈرگز کا استمعال ہونے لگا 
اس کی عجیب ترین حرکتیں دوسرے لوگوں کو متاثر کرنے لگی مثلاً اس نے آصف صاحب کے گہرے دوست صدیق ربانی کے گھر چوری کی وہ تو آصف صاحب نے دوست کو سنبھلا اور مجبوراً انہیں اس کا موازنہ بڑھنا پڑا اس کے بعد اس نے جوئے میں جیت جانے کے بنا پر ایک پارٹی رکھی اور اتنی مہنگی ترین پارٹی میں جب اصف صاحب کے گھر بل کی لمبی فہرست ائی اِن کا خون کھول اٹھا انہوں نے حُسین کو باز انے کا کہا لیکن وہ سُدرھا نہیں اس نے اپنے اندر کی بے
سکونی کو دور کرنے کی خاطر یہ سب کررہا تھا جب کے وہ یہ نہیں جانتا تھا بُرائی کے نشے سے سکون دور نہیں ہوتا بلکہ بڑھتا ہے اور یہی چیز اس کے لیے مزید نقصان دہ تھی 
حسیُن کی یہ ایڈونچر جاری رہا تو ایک دن آصف صاحب پھٹ پڑے اور اس سے گھر سے نکالنے کی دھمکی دی کیونکہ آب بات حد سے بڑھ گئی تھی اس نے منسڑ کی بیٹی کا ریپ کیا تھا کیونکہ اس لڑکی نے حُسین کو تھپڑ مارا تھا وجہ یہ تھی کے حُسین نے اونیزہ کی کار کو پھیچے سے مارا تھا اور اس نے باہر نکل کر حُسین کے بے عزتی کی اور اس نے اپنا رینک بتایا جب حُسین نے بھی جواب میں کھڑی کھڑی سنانے کے ساتھ اس کے باپ کو گالی دی تو اونیزہ سے یہ بات برداشت نہ ہوسکی تو اس نے حُسین کو تھپڑ مار دیا 
یہ بات حُسین کے لیے احساسِ توہین کا باعث بنی تو اس نے اونیزہ کو اگلے دن کیڈنیپ کیا اور اس کا سارا کام تمام کردیا 
سنیر منسڑ شکیل احمد کو جب پتا چلا تو انہوں نے حُسین کے پھیچے اپنے بندئے بھیج دیے اور آصف صاحب کے گھر حملہ کروایا آصف صاحب کی برداشت جواب دئے گئی اور ایک تویل جھگڑئے کے بعد اسے گھر سے نکال دیا 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"دروازہ کھولو تم !"
وہ سگریٹ پی رہی تھی ساتھ میں اپنے کلائنٹ سے بات کررہی تھی جب دروازے پر بیل کی آواز سُن کر سکول کا کام کرتے ہوئے مکث پر چلائی ۔
مکث نے کتاب کو بند کیا اور اُٹھ پڑا 
اس نے چُپ کر کے ماں کو دیکھا جن کے لہجے کے ساتھ ساتھ انکھیں بھی کرخت تھی اسے کھبی کھبار لگتا تھا وہ اس کی سگی ماں نہیں ہے
دروازہ کھولا تو ایک آدمی کو دیکھ کر چونکہ 
"جی آپ کون ؟"
حُسین ساکت اس بچے کو دیکھ رہا تھا جس کی ہو بہو شکل اس سے ملتی تھی اس کی انکھیں گہری اوشن کی طرح بلکل اس پر گئی تھی 
"سر آپ کون ؟"
مکث نے اپنا سوال پھر سے دُھرایا 
لیکن وہ خاموشی سے اسے دیکھتا رہا 
"کون ہے مکث ؟"جب اولویا باہر نکل کر ائی تو سامنے کھڑئے مختلف سے حُسین آصف کو دیکھ کر ساکت ہوگئی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"مجھے ان کے گھر ائے ہوئے دسواں دن تھا جب دوبارہ ملازمہ نے مجھے اسی ہال میں بھیجا 
میں آج بیٹھنے کے بجائے کھڑکی کی طرف چلا گیا اور 
بے انتہا خوبصورت لان کے نظارئے کو دیکھ رہاتھا بارش ہونے والی تھی تیز تیز ہوائے مجھے صرف یہاں سکون بخش رہی تھی اگر ایسا موسم میرے گھر میں بھی ہوتا پھر بھی مجھے سکون نہ مل پاتا پتا نہیں کیا میجک 
تھا اس گھر میں 
"ارے رائن بیٹا آپ ۔"
میں پھیچے مڑا جب وہ مجھے حیرت سے دیکھ رہے تھے 
"سورئ میں کافی جلدی اگیا آپ کو بُرا تو نہیں لگا 
ارے نہیں یار او ویسے بھی میرے لیکچر کے لیے لوگ انے لگے ہیں ایک کام کرتے ہے آپ کو دوسرے کمرے میں لیے جاتے ہیں ۔"
انہوں نے میرے کندھے پہ بازو پھیلائے 
"سر اگر آپ مائنڈ نہ کریں تو میں آج آپ کا لیکچر سُن سکتا ہو۔"
وہ چونک پڑے پھر میں نے ان کی انکھوں میں گہری چمک دیکھی 
"ضرور ینگ مین یو کین اٹینڈ ۔"
"سر یہ انگلش کا لکچر ہے نا۔"
"ہاں میرے بچے اس لیے تو آپ کو کہا ہے یہاں پر اصل میں بہت کم لوگوں کو آردو اتی ہے داٹس وائی انگلش میں لکیچر ہوتا ہے "۔
"آپ بیٹھے اضغر آپ کے لیے کچھ لاتا ہے ۔"
وہ میرا کندھا تھپتپھا کر چلے گئے 
"مجھے پتا نہیں چل رہا تھا میں کیا کررہا ہو لیکن جو کچھ کررہا تھا اس سے مجھے اطمینان مل رہا تھا یہ سب میرے اختیار میں نہیں تھا بس خودبخود ہوتا جارہا تھا 
تھوڑی دیر بعد وہی ملازم حدید میرا پسندیدہ پانی اور ساتھ میں ڈیٹس لایا 
ڈیٹس کا اس لیے پتا تھا کیونکہ دوبئی میں میرا کافی انا جانا تھا لیکن کھبی کھائی نہیں تھی دیکھنے میں کھبی مجھے اچھی نہیں لگی تھی 
میں نے صرف پانی اٹھایا اور شکریہ کہہ کے پینے لگا 
تو سر تب تک اگئے تھے ۔
"ارے آپ نے کجھور کیوں نہیں لی ۔"
ان کی اس بات پہ میں شرمندہ ہوگیا 
"سوری سر مجھے ڈیٹس نہیں پسند ۔"
مجھے لگا ان کے چہرے پہ ناگواری ائے گی لیکن وہ ویسے ہی ہلکی سے مسکراہٹ پہ مجھے دیکھتے ہوئے بولے 
"کھبی چکھی ہے بیٹا ایسے کیسے ہوسکتا ہے کسی کو کجھور نہ پسند ہوں ۔"
میں نے نفی میں سر ہلایا 
تو انہوں نے ہنستے ہوئے کجھور اُٹھائی 
"تھبی !ایک دفعہ ٹرائے کرئے بہت اچھی ہے پھر اس کا ایک زبردست فوائد بتاو گا ۔"
میں نے ان کی خاطر پکر لی جب میں کڑوی سے کڑوی چیز کھا سکتا ہو تو اس میں کیا ہے حلانکہ مجھے نہیں پتا تھا یہ سب سویٹ سے کتنی زبردست چیز تھئ جب میں نے اس چکھا تھا ۔
"بتاو رائن بیٹا کیسی لگی آپ کو ؟"
‏Sir I love it I didn't know you have plenty of delicious things 
وہ کُھل کر ہنس پڑیں ابھی دیکھوں یہ لوگ آرہے ہیں پھر بات میں آپ کو اس کا قصہ بتاو گا ۔"
وہ بیٹھ گئے انہوں نے اپنے ساتھ بیٹھنے کا اشارہ کیا تھا میں چپ کر کے بیٹھ گیا 
پھر تقریباً پینتالیس لوگ ہال میں اکھٹے ہوئے ان سے سلام دعا کرنے کے بعد بیٹھ گئے اور مجھے بڑی ہی حیرانگی سے دیکھ رہے تھے مجھے ان کی حیرانگی پر عجیب سی جنجھلاہٹ ہوئی ۔
"اسلام و علیکم میرے پیارے بھایوں کل ہماری ڈسکشن 
زکوة
پر ختم ہوئی تھی آج ہم روزے کے بارے میں بات کرئےگے کیونکہ رمضان المبارک آٹھ دن بعد آرہا ہے اور بہت سے لوگوں کو اس پر سوال بھی ہوتے ہیں اس لیے سوچا آج شروع کرتے ہیں 
میں ان کی نرم شیریں آواز سنے لگا جن میں ایک سحر تھا 
"تو فاسٹنک اصل میں کیا ہے اس کا مقصد کیا ہے کوئی بتانا پسند کریں گا ۔"
انہوں نے ہوچھا 
ایک نے کہا کے "ہم اللّٰلہ کے لیے خود کو پورا دن بھوکا رکھتے ہیں ۔"
"وہ تو سب کو پتا ہے عادل بیٹا کوئی اور جواب ۔"
انہوں نے نرمی سے کہا 
"ہم میں برادشت پیدا ہوسکے ۔"
کسی اور نے کہا
‏Yes indeed fasting create patience between us 
"اور کوئی ؟ یار میرے دوستوں کوئی یہ نہیں کہتا کے گناہوں سے دور ہوں۔" 
میں چونک اٹھا 
"اکثر میں نے بہت سے لوگوں کو دیکھا ہے روزے کی حالت میں ایک دوسرے کو گالیاں دیں رہے ہوتے ہیں 
وجہ کیا معلوم ہوئی وہ انگریز میرے سامنے کھا رہا ہے 
اسے زرا تمیز نہیں ہے 
پھر ایک فمیلی رمضان کے مہینے میں بیٹھے 
پارک میں لنچ کررہے ہوتے ہیں 
تو ہم جیسے بندئے کانوں کو ہاتھ لگانا شروع کردیتے ہیں توبہ استغفار رمضان میں کھانا کھا رہےہیں انہیں شرم نہیں اتی پھر اگے جاکے سارے لوگوں کو اس پر تبصرے کریں گے 
ایک گھر میں عورت بے چاری سخت گرمی میں وہ بھی روزے کی حالت میں سب کے لیے کھانا پکاتی ہے 
اس کا خاوند افطاری کے وقت اسے تھپڑ مار دیتا ہے وجہ کیا ہے کھانے میں نمک زیادہ ہوگیا آب ہوگا کیا بیوی کے دل میں بھی قدورت بڑھ جائیں گی اور اس بندئے کے گناہ جو جھڑنے تھے بڑھ گئے 
اور جس بندئے نے انگریز کو گالیاں دئی تھی اس بچارے کو کیا معلوم کے آپ فاسٹ کررہے ہیں اگر آپ کو تکلیف ہے تو آپ ُاٹھ جائے یہاں سے ،فارنر کے سامنے بھی امپریشن خراب کیا آور اللّٰلہ کے سامنے بھی 
جو پارک میں پکنگ منا رہے ہیں وہ سفر پہ ہیں اس لیے ان کو آجازت ہے کے وہ روزہ چھوڑ کر بعد میں رکھ سکتے ہیں غیبت کر کے آپ اپنے مرئے ہوئے بھائی کا گوشت کھارہے ہیں اس میں آپ کے گناہ بڑھ رہے ہیں ان کے نہیں ۔
ہم روزہ رکھ کر سمجھتے ہیں کے ہم نے بڑا کمال کا کام کیا ہے بھوکا رہنا کون سی بات ہے اصل بات تو یہ ہے آپ گناہ سے دور رہو آپ کی انکھ ،کان منہ ،ہاتھ اس کا بھی روزہ ہے آپ کی انکھ بُری چیز سے دور رہے ،آپ کے کان بُری اور وحیات چیزیں نہ سنے 
آپ کے ہاتھ غلط کام کرنے سے روکے اور آپ کا منہ 
غلط بولنے سے روکے 
یو جسٹ ہیو ٹو کنڑول یور سیلف ورنہ آپ کے بھوکے رہنے سے اللّٰلہ کو کوئی فرق نہیں پڑتا روزہ رکھنے کا حکم اس لیے دیا گیا ہے کہ اس سے آپ میں برداشت پیدا ہو ہر چیز کی نہ کے صرف بھوک کی اس سے آپ کا دل پاک ہوجاتا ہے ،آپ میں خدا کا خوف ایونچلی پیدا ہوتا ہے آپ سیدھے راستے پہ چلتے ہیں اس لیے تو نہیں کہتے کے روزہ دوزخ کی آگ میں آپ کی ڈھال بنتا ہے اور آپ کو بچاتا ہے 
یہ بات ہمارے نبی ﷺ نے فرمائی تھی 
الصِّيَامُ جُنَّةٌ مِنْ النَّارِ كَجُنَّةِ أَحَدِكُمْ مِنْ الْقِتَالِ
‏Fasting is a shield from the Hellfire just like the shield of any of you in battle.
پھر ایک اور دفع کہا گیا 
Verily, fasting is not only from eating and drinking. Rather, fasting is from vanity and obscenity. If someone abuses you or acts foolish against you, then say: Indeed, I am fasting.
hoever does not give up false speech and evil deeds while fasting, then Allah is not in need of his leaving food and drink.
چلے آب گناہ کی بات ختم ہوئی آب بات اتی ہے روزہ رکھنے کی بھائی ہم روزہ کیوں رکھتے ہیں اس کو تو ہم نے ڈسکس کر لیا لیکن اللّٰلہ نے اسے ایک اور مقصد کے لیے بھی ہم حکم رکھنے کو کہا ہے کوئی بتائے گا ۔"
‏To give a rest to your stomach because it works all day and night just like your other organs get a rest stomach also needs to be rested That's why God said it 
(ہمیں اپنے پیٹ کو آرام دینا چاہیے کیونکہ یہ سارا دن اور رات کام کرتا ہے جیسے باقی جسم کے حصے کو آرام ملتا ہے پیٹ کو بھی آرام دینا چاہیے اس لیے خدا نے کہا ہے ۔)
یہ بات اچانک میرے منہ سے نکلی اور میرے ساتھ وہ بھی دنگ ہوکر میری طرف دیکھنے لگے مجھے حیرانگی ہوئی یہ الفاظ میں نے کہے ہیں 
"شاباش رائن آپ تو بہت انٹلیجنٹ ہے ہاں اتنے فوائد ہیں روزہ رکھنے کے میں آپ کو بتاتا ہو
ہم سوچتے ہیں ہم بھوکے رہیں گے تو ہم مر جائے گے پتا نہیں ہمارے ساتھ کیا ہوجانا ہیں بہت نقصان ہوگا ہمارے جسم کو کیسا نقصان ریسرچ کے مطابق 
روزے سے آپ کا موٹاپا کم ہوتا ہے اللّٰلہ تعالیٰ نے کتنا زبردست ڈائٹ کا پلین دیا ہے جو ہم جم وغیرہ میں اپنی انرجی پیسہ اور وقت ضائع کردیتے ہیں خیر یہ نہ کرنے بیٹھ جائے گا آپ کے ہم نے اکسیرسائز کرنا اور جم جانا چھوڑ دیا ہے ۔
روزہ ہماری انسولین کی سنسٹویٹی کو امپریو کرتا ہے 
جس سے بہت سے لوگ شگر کے امراض سے بچ سکتے ہیں اور بھی بہت سی بمیاریاں ہیں کس نے کہا ہے کے نہ کھانے سے بندہ مر جاتا ہے بلکہ کم کھانے سے انسان زیادہ زندہ رہتا ہے 
اس کے بعد جو لوگ مہنگی مہنگی کرمیوں ،لیزر پر کڑور روپے لگا دیتے ہیں ان کو یہ نہیں پتا روزہ رکھنے سے 
آپ کی اکینی کلیر ہوتی ہے اور آپ کی سکن صاف ہوجاتی ہے 
دیکھ لے اللّٰلہ ہمارے لیے کتنا بہتر سوچتا ہے اور ہم کہتے ہیں کے روزہ نہیں رکھ سکتے ہماری صحت گرتی ہے الٹا آب تو ہمارے لیے اتنی آسانی ہے پہلے زمانے میں کیا ہوتا تھا جیسے ہی روزہ کُھلتا تھا سورج غروب ہونے کے بعد اگر ہلکی سی انکھ لگ جاتی تو دوسرا روزہ شروع ہوجاتا تھا اس وقت افطاری سے افطاری تک کا روزہ ہوتا تھا ہم پر بھی ایسے فرض تھا ایک دفعہ ایک صاحبی ہے قیس ابن سریمہرضي الله عنه نے روزہ رکھا کام کر کے لوٹے اور انہوں نے بیوی کو کہا کے کوئی افطاری ہے تو ان کی بیوی نے کہا کے افطاری تو نہیں ہے لیکن آپ تھک ہار کے ائے ہے تو میں آپ کے لیے کچھ انتظام کرتی ہوں وہ چلی گئی ان کے لیے کوئی افطاری ڈھونڈنے تو ان کی انکھ لگ گئی 
ان کو دیر ہوگئی سورج ڈوپ چکا تھا وہ جب لوٹی تو پریشانی سے بولی کے ہائے وہ ایک دم اٹھ پڑے کے کیا ہوا تو وہ بولی کے سورج ڈوپ چکا ہے آب تو اگلا روزہ شروع ہوگیا ہے تو وہ بولے اہو آب کیا کرے ظہر کی نماز کے وقت ان کی حالت بُری ہورہی تھی آپ گر رہے تھے آپ اس وقت کہنے لگے "یا رسول اللّٰلہ !"میرے نبی ﷺایک دم کہنے لگے کے قیس کیا ہوا آپ نے انہیں سارا قصہ سنا دیا 
"ہمت نہیں ہے یا رسول اللّٰلہ۔"
وہ ایک دم کہنے لگے 
"او ہوں چلوں میرے بندوں میرے اللّٰلہ کا حکم ہے ساری رات تمہارے لیے کھانا جائز ہے "آب دیکھیں ہمارے نبی ﷺ نے کتنی آسانی کردی پھر بھی ہم آدھا دن سونے پہ گزار دیتے ہیں تب بھی کہتے ہیں روزہ بڑا لگ رہا ہے 
مجھے ان کی باتیں بہت دل کو لگی میں کہاں تھا کیا کررہا تھا اپنی زندگی کے ساتھ اپنے زندگی کے ۳۵ سال مجھے بے حد بے معانی سے لگے 
ان کا لیکچر ختم ہونے کے بعد میں وہی بیٹھا رہا لیکن خاموش 
ؤہ سب سے مل کر میری طرف ائے انہوں نے میرا ماتھا چوما 
"آپ نے مجھے بہت خوش کردیا رائن آپ نے جواب دیا مجھے بہت آچھا لگا ۔"
میرے اندر عجیب قسم کی شرمندگی پھیل گئی 
سر آپ سے ریکویسٹ ہے 
ہاں بولو میرے بچے 
"سر اگر میں روزہ رکھو آپ لوگوں کے ساتھ تو آپ مائنڈ تو نہیں کرے گے ۔"
پھر جب میں نے ان کا چہرہ دیکھا تو دھک گیا ان کا چہرہ پہلے ساکت پھر خوشی اور نمی سے کِھل اٹھا وہ میرے گلے لگ گئے 
"رائن آج آپ نے میرا دل موہ لیا ۔"
میں اس محبت اور اس ریسپیکٹ پر پہلی دفعہ خود کو بہتر محسوس کر رہا تھا 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حیا کی جب دوبارہ انکھ کھلی تو اس نے دیکھا وہ ایک ہٹ تھا اور وہ اس ہٹ کی چھت پر تھی تیز دھوپ اور اردگرد دیکھنے پہ اسے احساس ہوا وہ صحرا میں ہے 
"یہ میں کہاں اگئی ۔"
وہ اٹھی دیکھا اس کے ہاتھ بلکل آزاد تھے وہ جلدی سے کھڑی ہوئی جب سائڈ پر دیکھا تو ایک دروازہ سامنے نظر ایا 
اس نے کھولنے کی کوشش کی وہ کھل نہیں رہا تھا 
"یہ کھل کیوں نہیں رہا اُف !"
حیا زور زور سے کھولنے کی کوشش کررہی تھی "اللّٰلہ! "
"یہ نہیں کھلے گا ۔"
حیا نے مُڑ کر دیکھا ایک دراز قد ہپشئ جو گنجھا تھا سورج کی روشنی سے اس کا سر پولش کی طرح چمک رہا تھا جس نے کالا سوٹ اور کالی سن گلاسس پہنی ہوئی تھی اس کی ہاتھ میں ایک بڑی سی رائفل تھی 
حیا اس کو دیکھ کر جلدی سے پھیچے ہٹی 
"کک کون ہوں تم اور میں یہاں کک کیا کرہی ہو ۔"
"تم منیر سر کی بندی ہوں اور تم اس وقت دوبئی میں ہو ۔"
"دوبئی !"
حیا کو جھٹکا لگا 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"یہ کیا کردیا تم نے تمہیں اندازہ بھی ہے میرے گھر والوں پر کیا بیتی ہوگی ۔"
مکث چیخ پڑا اس کا چہرہ لال ہوگیا سانسیں پھول گئ 
"مکث میں نے تمہارے بہتری کے لیے کیا ہے میں۔۔۔۔"
"کیسی بہتری تم نے میری ماں میرا بھائی، میرا 
دوست کو کتنی بڑی تکلیف دی ہے۔"
مکث کا سر چکرا اٹھا اور حیا حیا بھی سمجھ گئی ہوگی مکث مر گیا یانی وہ کسی اور کی ہوجائے گی کسی اور کی بیوی کوئی اور اسے چھوئے گا 
یہ بات مکث کی نسے پھاڑنے کے لیے کافی تھی وہ غصے سے حُسین پر جھپٹا 
"تم نے تم نے میرے سے سب کچھ چھین لیا میری حیا کسی اور کی ہوجائے گی میں ایسا ہونے نہیں دو گا مجھے جانے دوں ۔"
مکث کے چہرے پر وحشت اگئی 
حُسین کا دل جیسے پھٹنے لگا اس کی حالت دیکھ کر 
"میرے بچے اگر تم سیدھی رہا پڑ چل پڑے تو میں ضرور جانے دوں گا ۔"
"مجھے کچھ نہیں چاہیے مجھے صرف حیا چائیے۔"
وہ جسیے رو دیا 
"مکث پلیز !"
"دور ہوجاوں میرے قریب بھی مت انا نہیں بنا مجھے مسلمان کیا ہے ایک ڈھونگی دھوکے باز پلیر سٹڈ منافق جیسے تم حُسین آصف نہیں بنا مجھے مسلمان بلکل بھی نہیں ۔"
وہ چِلا اٹھا 
حُسین آصف سے زیادہ برداشت نہ ہوسکا تو وہ وہاں سے نکل پڑئے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"تم!"
"اولویا یہ میرا بیٹا ہے ۔"
"خبردار خبرادر جو تم اس کے قریب ائے نہیں ہے یہ تمہارا بیٹا ۔"
اولویا نے مکث کو کھینچ کر اپنے ساتھ لگایا اور حُسین کو دیکھ کر غرائی ۔
"نہیں یہ میرا بیٹا ہی ہے ۔"
حُسین اگے بڑھا 
"دور رہوں مکث تمہارا بیٹا نہیں ہے ۔"
"مکث !"
اس کو اپنی آواز گہری کھائی میں محسوس ہوئی 
"ہاں یہ میرا بیٹا ہے مکثملین جو جیسز کو بلیو کرتا ہے 
جو میرے نقشِ قدم پر چلے گا ۔"
"کیا مطلب ؟؟؟"
حُسین کا چہرہ فق ہوگیا 
"تمہیں یہ نہیں بتایا کسی نے یہ مس اولویا پارکر 
‏The famous hooker of london 
کا گھر ہے "
حُسین کو آب کی بار جٹکھا اس سے زیادہ لگا 
"ککک کیا کہا تم نے ؟"
"ہاں میں انٹرنشینل کارل گرل ہو اور میرا بیٹا عیسائی ہے آب ہوگئی تسلی جاوں دفع ہوجاو یہاں سے ۔"
"اولویا تم جھوٹ بول رہی ہو تم ایسا نہیں کرسکتی ۔"
حُسین چیخ پڑا اس کی دل جیسے بند ہونے لگا 
"کیوں تم نے ہی تو کہا تھا مجھ جیسی لڑکیاں کا ایک سے دل نہیں بڑھتا صیح کہا تھا تم نے حُسین واقی میرا ایک سے دل نہیں بڑھتا۔"
آب کی بار اولویا کا لہجہ رندھ گیا 
مکث بہت الجھن امیز نظروں سے ان دنوں کو دیکھ رہا تھا لیکن ایک چیز نے اسے حیرت میں مبطلہ کردیا سامنے یہ شخص اس کا باپ ہے جس کو وہ پورے اٹھ سال بعد دیکھ رہا تھا جو بچہ نو سال اپنے باپ کی شفقت سے محروم رہا وہ آج اپنے باپ کو دیکھ کر خوش ہوا لیکن ماں کی تلخ لہجے نے اسے چُپ رہنے پہ مجبور کیا 
حُسین کے دل کے میں تکلیف کی لہر دوڑی ایک دم وہ زمین پر گر پڑا
"ڈیڈی !"
مکث تیزی سے بولا 
............................................................
اس نے دروازہ کھولا اور 
اندر داخل ہوئی 
کیا کیا نہیں یاد آرہا تھا اس پینٹ ہاوس کو دیکھ کر 
اسے آس کی آوازیں کانوں میں گونج رہی تھی جو آواز پہلے سخت زہر لگا کرتی تھی آب دل کو دھڑکا رہی تھی 
اس نے سامنے دیکھا وہ صوفہ جس پہ اس نے اسے پروپوز کیا تھا اور محبت کا اظہار بھی کیا تھا وہ اس بروان کلر کے صوفے کے پاس ائی اور اس پر ہاتھ پھیرنے لگی جس میں اس کا بھی لمس تھا پھر اس نے دوسری طرف دیکھا جہاں کچن تھا جدھر سے وہ اس کے لیے بُرنال لایا تھا 
اور کیسے وہ پھیچے ہٹی تھی اس کی ہلکی سی تکلیف پر اس اٹھا کر لے آیا تھا پاگل تھا وہ بھی بہت پاگل آب وہ بالکنی کی طرف جارہی تھی جہاں مکث نے اس کے ساتھ جسارت کی تھی ،اور اس نے اسے زور دار تھپڑ مارا تھا 
اور پھر اس نے خودکشی کرنے کی کوشش کی 
جب وہ سجدئے میں رو رو کر امی کو یاد کر رہی تھی تو کتنے پیار سے اس نے اسے گھیرے میں لیے کر کہا تھا "شش بے بی گرل ڈونٹ کرائی ۔" 
ہاں وہ اس وقت نھنی بچی بن گئی تھی آنسو اس کے گالوں پر بہے جارہے تھے اور بہت شدت سے بہہ رہے تھے پھر وہ اس کے کمرے میں داخل ہوئی جہاں پر وہ سوتا تھا کمرے میں کتنی نیٹنس آبھی بھی تھی جیسے وہ آبھی ٹھیک کر کے گیا ہو 
‏Haya you're mine understand 
‏She's mine if somebody touches her or 
‏see with filthy eyes I'll rip his head 
حیا کو یہ آوازیں بہت تکلیف دئے رہی تھی وہ اس سب سے بچنے کے لیے پروگ کو چھوڑ کر جارہی تھی پہلے مکث سے بچنے کے لیے وہ روم گئی تھی اور آب مکث کی یادوں سے نکلنے کے لیے وہ یہاں سے جارہی تھی 
اس نے اپنی پینٹنگز دیکھی جو بلکل مکث کی بیڈ کے سامنے تھی اس نے وہ اس لیے رکھی تھی تاکہ وہ اسے دیکھتا رہے 
وہ اٹھی اور واڈروب کی طرف گئئ ہرچیز ویسی کی ویسی تھی اس کے مہنگے ڈریس ،بیلٹ ،کفلنکس ،ٹائی 
حیا نے کچھ سوچ کر اس کی شرٹ نکالی جس میں اس کی خشبو ہوگی Dior کی مہنگی ترین بے انتہا خوبصورت وائٹ شرٹ جس میں مہکتی ralph Lauren کی پرفیوم سونگھئ تو حیا نے اسے بھینچ لیا ہاں وہ پاگل ہوگئی تھی جس شخص سے نفرت کرتی تھی آج اس سے بے انتہا محبت کر بیٹھی آللّٰلہ نے اس کو عشق کی سزا دئے دی اسے اُس کرسچن سے نہیں بلکہ ایک اچھے انسان سے محبت ہوگئی تھی جس نے اس کی عزت بچائی یہ تو کوئی بھی نہیں کرتا حیا یقین سے کہہ سکتی تھی اگر اس دنیا میں اس سے شدید محبت کرتا ہے وہ مکثملین مارٹن ہی کرتا ہے اچانک اس کے کانوں میں عجیب سی سرگوشی ہوئی حیا ڈر کر مڑی 
وہ جلدی سے واڈروب کو بند کر کے باہر نکلی 
"مکث!"
اس لگا نیوی بلیو سوٹ میں کوئی آوپر گیا ہے 
حیا کو لگا وہ مکث ہی ہوگا وہ تیزی سے آوپر بھاگی 
اس نے دیکھا سامنے آرٹ سٹوڈیو کُھلا ہوا تھا حیا تیزی سے بھاگی اس نے دیکھا سامنے کوئی کھڑا ہے 
"مکث تم اگئے۔"
اچانک اس کی قریب اگئی تو ایک دم غائب 
یہ کیا وہ غائب کیوں ہوگیا 
"مکث !"
"حایا"
اس نے پھیچے دیکھا 
فریڈی کھڑا تھا 
جاری ہے
 
Zubair Khan Afridi Diary【••Novel ღ ناول••】. Zubair Khan Afridi
knowledgemoney