The one 
Episode 9

حیا نے ریڈ کلر کا سِلک گاون پہنا ہوا تھا اس کے خوبصورت بال پشت پرکرل کیے ہوئے تھے گال کی لالی بڑھی ہوئی تھی میک کے نام پر صرف اس نے صرف پنکش لپ سٹک لگائی ہوئی تھی 
مکث کو اپنا آپ روکنا بے حد مشکل ہورہا تھا وہ اس کے قریب ایا ہی تھا جب ایک اور بندئے نے حیا کے گرد بازو حمائل کردیے اور اسے اپنے ساتھ لگایا اور حیا کے کانوں میں سرگوشی کرنے لگا 
مکث کا دماغ بھک سے اُڑھ گیا یہ سب کیا ہے حیا کو کوئی اور ہاتھ لگا رہا تھا وہ حیا کے بے حد نزدیک تھا اور مکث کو اپنا آپ انگارے میں محسوس ہورہا تھا ۔۔وہ تیزی سے اسے مارنے کے لیے لپکا تھا کے حیا کی چیخ نکل پڑی 
اس کی انکھ کھلی وہ چھت کو گھور رہا تھا اس کا چہرہ پسینے سے بڑھ گیا 
وہ فورن اٹھا اور اپنی سانسوں کو نارمل کرنے لگا 
حیا کسی اور کے بازوں میں ُاف یہ منظر دیکھنے سے میری انکھیں کیوں نہیں پھٹ گئی 
مکث تیزی سے واش روم کی طرف گیا 
ٹیپ کھول کر اپنے منہ پر پانی کے چھینٹے مارنے لگا
اور ہر ایک بار اپنے اوپر تیزی سے چھینٹے مار رہا تھا 
پھر اس نے اپنا چہرہ دیکھا 
سرخ بوجھل انکھیں ،پیلا زرد چہرہ انکھوں کے گرد حلقے 
حد سے زیادہ بڑھی ہوئی شیو یہ پرفکیٹ مکث نہیں تھا یہ تو ایک ٹوٹا ہوا انسان تھا مکث کو اپنے آپ سے گھن ائی اس نے فورن شاور آن کیا اور اس پہ کھڑا ہوگیا اس کی اندر آگ بھڑک رہی تھی اور بڑی 
شدید بھڑکی تھی اس نے سر واش روم کی ٹائلوں سے ٹکا لیا 
"حیا تم کسی کی نہیں ہوسکتئ تم صرف اور صرف میری ہو اگر ایسا ہوا نہ تو میں اس شخص کو ختم کردوں گا یا خود کو ختم کردوں گا۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"اُف زاہد یہ ہم کہاں اگئے ہیں ۔"
فجر جو چلتے ہوئے تھک گئی تھی بڑے سے پتھر پر بیٹھتے ہوئی بولی 
"اللّٰلہ اللّٰلہ فجر پہلے خود کہتی ہو میں نے ہائیکنگ کرنے جانا تمہارے ساتھ، امی صیح کہہ رہی تھی تم 
نے دو قدم چلتے ہی تھک جانا ہے ۔"
"دو قدم !سریسلی دو قدم پورے دس کلو میٹر چلے ہیں ہم زاہد ۔"
فجر غصے سے بولی 
"توبہ ہے لڑکی کہاں پھسا دیا ہے تم نے میں آرام سے جاتا اکیلے ۔"
ہاں تاکہ تمہیں شیر یا کوئی جنگلی جانور کھا جاتا اور ہم ایسے بیٹھے رہتے۔"
زاہد اس کی بات سُن کر ہنس پڑا 
"توبہ ہے فجو تم بہت ہی بے وقوف ہو بڑا بچا لو گی "مجھے جانور سے ایک مچھر بھی نظر اگیا نا تو تم نے یہ جنگل کے ایک ایک جانور کو اپنی چڑیلوں والی چیخوں سے ڈرادینا ہے ۔"
فجر نے ٹریکنگ پول اٹھا کر اسے ماری 
"بدتمیز !"
زاہد نے گھورا 
"ماروں گی اور ڈرتی نہیں ہو اگر کچھ کہا نا بابا کو کال کردوگی ۔"
‏For you kind information young lady were in Canada's largest boreal forest region and Dads in Toronto 
اور تم میرے رحم و کرم پڑ ہو ۔"
"مرجاو تم زاہد ایک دفعہ گھر پہچنے دو بابا کو ایک ایک کمپلین کرو گی ۔"
ہاہاہا تم گھر جاوں گی تب نہ میں تمہیں یہاں چھوڑ کر بھاگ جاو گا ۔"
فجر نے بس اسے گھورا 
زاہد اگے چلنے لگا 
"زائد رُک جاو نا۔"
فجر اس کو چلتے ہوئے تیزی سے بولی 
"سوری ڈیر فجر میں ابھی تو بلکل بھی نہیں رُکنے والا 
ہاہاہاہاہا ۔"
"اللّٰلہ کرئے شکاری جال تم پر گرے اور تم اس میں پھس جاو۔"
فجر کی کالی زبان نے واقی کام دکھایا اور زاہد جیسے ہی اگے چل رہا تھا ایک دم سے اس کے اوپر 
جال گِرا 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"حایا ؟"
"و وہ۔۔۔۔"
حیا نے ایک دم فریڈی کو دیکھا اور پھر اپنے ہاتھ میں مکث کی شرٹ کو تو اس کا چہرہ ایک دم سُرخ ہوگیا 
"اٹس اوکے میں تمہیں کچھ نہیں کہوں گا ۔"
فریڈی نرمی سے بولا 
"ونیسا انٹی کیسی ہے ؟"
حیا نے شرمندگی سے شرٹ اس کو پکرائی 
‏Just keep it haya 
فریڈی آہستہ آواز میں بولا
"ائیم سوری فریڈی میری وجہ سے مکث اس دُنیا سے چلا گیا "
حیا مضبوطی سے کہتے ہوئے بلا آخر رو پڑی 
"پلیز رو مت حیا بھائی کی اتنئ ہی زندگی تھی ۔"
"لیکن اس کی موت کا سبب میں ہو میری وجہ سے اس دنیا سے گیا ہے وہ ۔۔۔"
حیا دل میں بولی لیکن زبان پہ گہری چُپ تھی 
"اچھا حیا میں چلتا ہو بعد میں بات کرو گا اس وقت ممی اکیلی ہے بھائی کی موت نے انہیں توڑ کے رکھ دیا ہے آب وہ مجھے بھی کہی باہر نکلنے نہیں دیتی یہ بھائی نے کیا کردیا وہ تو اس بندئے کا منہ توڑ دیتے تھے جو ممی کی انکھ میں آنسو لیے اتا تھا ایون میرا بھی خیال نہیں کرتے تھے بھائی بہت اچھے تھے بس کافی جزباتی چلتا ہوں ۔"
اور حیا چپ کر کے اسے جاتا ہوا دیکھ رہی تھی مکث کے جانے سے کتنے زندگیاں متاثر ہوئی ہیں رائن کی ،ونیسا کی ،فریڈی کی اور خود اس کی اسے مکث سے عشق ہوگیا اور وہ بھی اس کے جانے کے بعد یہ بہت کڑی سزا تھی جو اس کے اللّٰلہ نے دی تھی 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مکث نے کھڑکیاں چیک کی اور زور سے مُکا مارنے سے پتا چلا کے یہ ہیمر گلاس ہے جو unbreakable ہوتا ہے اس کا بی پی شوٹ کرنے کے قریب تھا 
"ال جسٹ کل یو حُسین !"
پھر اس نے غور کیا یہ جگہ تو کوئی فورسٹ (جنگل ) ہی لگ رہا تھا لیکن یہ پروگ جیسا جنگل ہرگز نہیں تھا کیونکہ وہ بہت سے جنگل میں کیمپنگ کرچکا تھا وہ یقین سے کہہ سکتا ہے وہ پروگ میں نہیں ہے
‏Damn it
اس نے زیرِ لب گالی دیتے ہوئے مڑ پڑا اور دروازئے کی طرف بڑھا اور کھولا حیرت انگیز طور پر دروازہ کُھل چکا تھا اس نے فورن کھولا اور سامنے سریاں دیکھ کر نیچے تیزی سے اترا لیکن ایک دم رُک گیا سامنے ایک کالا ہٹا کٹا باڈی گارڈ یونی فورم میں کھڑا تھا 
"واٹ ڈیو نیڈ سر ۔"
"سائڈ پہ ہٹو۔"
مکث تیز لہجے میں بولا 
وہ سائڈ پہ ہوگیا اور مکث اس کے جلدی مان جانے پہ حیران ہوا اگلے لہمے میں دروازے پہ پہنچا تو ایک منٹ کے لیے جہاں تھا وہی کھڑا رہا کیونکہ یہ دروازہ کوئی عام دروازہ نہیں تھا بلکہ ہارڈ میٹل کا تھا مکث کو پتا تھا اس نے کھلنا نہیں ہے اور حُسین کو یقین تھا وہ ضرور توڑے گا اس لیے ہارڈ میٹل کا ڈور رکھا 
مکث نے اپنے دانت پیسے اور ایک دم زور سے اس دروازے کو پاوُں سے ٹھوکر ماری وہ کہی پاگل نہ ہوجائے اس نے سوچا
اور اوپر چلا گیا اسے ہوشیاری سے کام لینا ہوگا یہاں سے نکلنے کے لیے اور یہ اس کی پہلی اورآخری سوچ تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حیا کو یہاں قید ہوئے وئے پورے دس گھنٹے ہوگئے تھے آب تک اسے پتا نہیں چلا تھا اسے کے ساتھ یہ کیا کرنے والے 
ہیں صبح کی کھڑکھتی دھوپ نے اس کا بُرا حال کردیا تھا ۔
وہ پیاس اور بھوک سے نڈھال ہورہی تھی 
پھر سوچتی اچھا ہے اس بھوک سے میں مر جاوں لیکن اگلہ بندہ بھی اسے مارنا نہیں چاہتا تھا اس لیے فورن اس نیچے کے لیونگ روم میں لیے کر بٹھایا گیا جو خوبصورت گرین ائینڈ وائٹ کمبینیشن اٹالین ڈیزائن کا بنا ہوا تھا ائے سی کی تیز کولنگ نے حیا کو ٹھنڈک بخشی لیکن پھر اس نے اپنے سر پر اس بوڈی گارڈ کو دیکھا تو بولی 
"مجھے یہاں کیوں لایا گیا ہے پلیز بتاو نہ ۔"
وہ اگے سے خاموش رہا حیا کو حیرت ہوئی اندر بھی اکر اس نے کالا چشمہ پہنا ہوا تھا اور منہ سڑا ہوا کریلے جیسا ہی تھا 
تھوڑی دیر میں ایک عورت جس نے میڈ ڈریس پہنی ہوئی تھی ہاتھ میں ٹرے لیے کر ائی اس کا انداز خاصا روبورٹ جیسا تھا 
آس نے حیا کے سامنے ٹرئے رکھی حیا ان ڈھیر سارے لزومات کو دیکھ کر دنگ رہ گئی 
تیکہ بوٹی ، مٹن پلائو ، مختلف قسم کے کباب ،نان اور میٹھے میں چیز کیک دیکھ کر حیا نے سوچا شاہد کوئی دوسری بھی لڑکی پکری گئی ہے اس لیے اتنا کھانا پیش کیا گیا ہے ۔
‏Eat 
حیا نے اس بلیک مین کی آواز پر سر اٹھایا 
وہ کھانےکی طرف اشارہ کررہا تھا 
"نو!"
حیا بھی اسی انداز میں بولی 
‏I Have a gun kid so it's better be a good girl 
اس نے گنَ کی طرف اشارہ کیا اور اپنے چمکتے ہوئے دانت دکھائے جس میں ایک سونے کا دانت بھی تھا
‏I am not scared of death 
حیا کے لہجے میں پہلی بار مضبوطی ائی وہ کب سے اتنی بہادر ہوگئی تھی ہاں وقت نے زندگی کے تین مہینے صرف تین مہینے نے اسے بدل دیا تھا 
"لیکن تمہیں اپنی عزت کی خاطر یہ کھانا ہوگا ۔"
حیا نے اُدھر دیکھا ایک سفید گاون میں سر پر سکارف باندھے ایک بہت سوبر سے خاتون تھی 
حیا کو آب کسی پر بھی بھروسہ نہیں تھا اس لیے ان کو دیکھ کر واپس گردن موڑ لی 
"بیٹا کھالو ورنہ منیر تمہاری عزت ختم کرنے میں ایک سکینڈ نہیں لگائے گا ۔"
حیا کا چہرہ سفید ہوگیا 
"کون منُیر اور مجھے یہاں کیوں لایا گیا ہے ؟"
حیا زور دیتے ہوئے بولی 
"پہلے تم کھا لو پھر تمہیں بتاو گی ورنہ پیٹر منیر کو بتادئے گا تم کھانا نہیں کھارہی اور مجھ سے بار بار سوال کررہی ہو۔"
وہ دھیمی آواز میں بولی 
مجھے بتاو گی کے تم کون ہوں اور یہ مُنیر کون ہے ؟
حیا چلائی آب کے بات اس نے کوئی لحاظ نہیں کیا 
"پلیز بیٹی اگر اپنی عزت پیاری ہے تو کھالو 
وہ یہ کہہ کر چلی گئی ۔"
حیا نے اپنا سر تھام لیا 
واقی میں اسے جان سے زیادہ عزت پیاری ہے 
اور اس نے چُپ کر کے پلیٹ لی اور کھانا ڈالنے لگی دل عجیب ہورہا تھا لیکن مجبوری تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"فجر بچاو ۔"
فجر نے پہلے حیرت سے زاہد کو جال میں پھسے ہوئے دیکھا پھر کھکھلا کر ہنس پڑی 
"ہاہاہاہا دیکھا نا کہا تھا آپ کو میرے سے پنگا نہ لیے کیونکہ کے پنگا از نوٹ چنگا ہی ہی ہی 
۔"
"فجر کی بچی مجھے یہاں سے نکالو !"
زاہد بار بار اس جال کو ہاتھ مارہا تھا اور فجر کو التجا امیز نظروں سے دیکھ رہا تھا 
"سوری زاہد ابھی نہیں پہلے تمہیں مجھ سے معافی مناگنی ہوگئ اور میری کچھ شرائط ہیں ۔"
‏Fajr just help me you dumb 
"ڈم کس کو کہا آب تو بلکل بھی نہیں نکالوں گی ۔"
"فجر پلیز یار مجھے نکال دو نہ یار۔"
"پہلے میری بات سنو تب کچھ کرو گی ۔"
فجر نے اپنے نخانوں کو دیکھا اور انہیں چیک کرنے لگی 
"اچھا منظور ہے پہلے نکالو تو صیح ۔"
"نو نو جیسے کے میں تمہیں جانتی نہیں ہوں پہلے ہرچیز پر تم نے ہاں کرنی ہے امی کی قسم تم نے ہرچیز پوری کرنی ہے ۔"فجر تمہیں اللّٰلہ پوچھے پلیز بولوں آب ۔"
زاہد نے اسے کھا جانے والی نظروں سے گھورا 
"پہلے تم نے مجھے اپنی سپورٹس کار چلانے دینی ہے ۔"
"واٹ!دماغ خراب ہے میں تمہیں اپنیPorscheBoxter دو مجھے پاگل کُتے نے کاٹا ہے"
زاہد چیخ کر بولا 
"آرام سے او ہلیو ہاں تو وہ تم چلانے دو گے دوسرا مجھے تم نے اپنی سوکر ٹیم میں حصہ لینے دینا ہے ۔"
"فجر تم کھیل ہی نہیں سکتی تو میں کیسے رکھوں تمہیں ۔"
زاہد تیزی سے بولا بس نہیں چل رہا تھا اپنی اس چار سالا چھوٹی بہن کا حُلیہ بگار دئے 
"ائے کھیلنا اتا ہے میں اپنی کالج کی لڑکیاں کو ہرا چکی ہوں ۔"
"ہاں جو تمہارے سے زیادہ پھوٹر ہے کھیلا جا نہیں رہا ہوتا کک مار کر بس کھی کھی کرنی اتی ہے ۔"
"اوئے میں چلی جاوں گی پھر بیٹھے رہنا تم ۔"
فجر گھور کر بولی 
"جلدی بولے گی آپ ۔"
زاہد دانت پیس کر بولا 
"ہاں پھر تم نے مجھے Macbook لیے کے دینا ہے پلس مجھے Spain اور Egypt کا ٹرپ اور ہاں مجھے Tom ford کا ڈریس بنا کے دینا ہے دو ہفتہ بعد ہمارا فیر ویل ہے ۔"
"میں تمہاری سب خواہش پورئ کردو گا لیکن پلیز فجو نکال دو نہ یار ۔"
"نہیں ابھی سنتے تو جاوں ۔"
فجر مزے سے راک پر بیٹھ گئی 
اور بیگ سے Pringles کا ڈبہ نکال کر کھانے لگی 
"ہاں تو میں کیا کہہ رہی تھی زاہد خان ہاں ! تیسرا تم نے مجھے اوسکر پریمیر میں لیے کے جانا ہے ۔"
زاہد نے اس کی خواہش سنی تو تپ گیا 
"ہاں میں جیسے Justin Trudeau کی اولاد ہونا کے میں آرام سے تمہاری خواہش پوری کردو گا ۔"
"خیر جسٹن ٹریڈو کی بات سے یاد ایا اس سے بھی ملوانا ہے تم نے مجھے قسم سے کتنا پیارا پرائم منسڑ ہے ابو کو ہمیشہ کہتی ہوں کے پلیز مجھے جسٹن سے ملا دئے ان کی گہرے دوست گورنر جنرل ڈیوڈ جنسٹن ہے لیکن ابو ٹال دیتے ہیں ۔"
"اچھا میری ماں میں ملا دو گا بلکہ اس کے ساتھ ڈنر بھی کروادوں گا مجھے خدا کا واسطہ یہاں سے نکالوں فجر ۔"
آب زاہد کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا تو وہ چیخ پڑا 
"اچھا اچھا کچھ کرتی ہوں میں ۔"
فجر جلدی سے اپنے ہاتھ جھارتے ہوئے بولی 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ کمرے میں ادِھر اُدھر ٹہل رہا تھا سوچ سوچ کر اس کا دماغ پھٹ رہا تھا حیا کے علاوہ اس کی سوچ میں فل حال کوئی نہیں تھا کیونکہ اسے باقیوں کی فکر نہیں تھی ہاں ممی کو بہت زیادہ دکھ ہوگا اور وہ یقین سے کہہ سکتا تھا وہ بمیار ضرور ہوگئی ہوگی یہ چیز اس کی پریشانی کا باعث تھی رائن نے سڑیس لیے لیا ہوگا اور بزنس پر بھی نہیں دھیان دئے رہا ہوگا 
ممی کو تو فریڈی سنبھال لیے گا رائن کو کیلن لیکن حیا حیا کا کیا حیا خود کو کیسے محفوظ رکھے گی اور اگر کوئی اور بندہ اس کے ساتھ کچھ ۔۔۔۔۔ اسے وہ منظر یاد اگیا جب وہ اور رائن دونوں کفیے سے باہر نکلے 
تو باتوں میں اچانک مکث کو کچھ صیح محسوس نہیں ہورہا تھا جیسے بہت عجیب سی فیلنگ تھی اس کی چھٹی حس بار بار کہہ رہی تھی کچھ گڑبڑ ضرور ہے 
اور رائن جو اس سے بات کررہا تھا وہ اس کئ پیشانی پر پڑئے لکیر دیکھ کر چونکہ 
"کیا ہوا بڈی منہ پر بارہ کیوں بجے ہے ۔"
مکث نے اسے دیکھا اور پھر نفی میں سر ہلا کر کار 
میں بیٹھ گیا آج اسے کار کے ائے سی میں بھی عجیب سے گرمی محسوس ہورہی تھی 
"وہ بے اختیار ڈرائیو کر کے کار حیا کی رہائش پہ لیے ایا جہاں وہ ہمیشہ اسے جاتا ہوا دیکھا کرتا تھا ۔
"تو کدھر لیے ایا ہے؟"
رائن اسے بولا 
جبکہ مکث انتظار کرتا رہا کے وہ آب گزر کر جائے گی 
تو اس کو سکون مل جائے گا اور جب حیا کو شک پڑے گا تو وہ مُڑ جائے گا 
"مکث ہم یہاں کیا کررہے ہیں ۔"
"پتا نہیں ۔"
وہ سٹیرنگ کو ٹیپ کرنے لگا 
رائن نے شان مینڈس کا There's nothin holding me back لگا دیا 
مکث خاموشی سے حیا کا انتظار کرتا رہا پھر اپنی گھڑی کو دیکھا 
نو بجے سے زیادہ ہوگئے تھے 
"وہ کار سے بار نکل ایا ۔"
رائن بیٹھا رہا اسے مکث کے اس طرح کی حرکتوں کی عادت تھی ورنہ مکث جیسے بندہ کو کون برداشت کرتا ہے 
اس نے سونگ چینچ کر Despacito لگا دیا 
مکث تھوڑا سا اگئے گیا جب اسے کسی کی آواز ائی 
"آللّٰلہ واکبر !"
یہ آواز تو حیا کی تھی اور وہ بھی چیخنے کی 
مکث فورن تیزی سے بھاگا 
اور سڑیٹ کے اندر داخل ہوا 
چیخوں کی آواز بڑھتی جارہی تھی مکث کا دل کانپ اٹھا 
رائن نے بھی اس کو تیز بھاگتے ہوئے دیکھا تو تیزی سے نکالا 
اس نے اپنے سامنے دو گارڈز دیکھے جو اس نے اج حیا کے لیے اس کے گھر کے سامنے بھیجے تھے 
"تم لوگ اِدھر کیا کررہے ہوں اور میڈیم ائی ۔"
"نو سر پر ہم چیخوں کی آواز پہ بھاگے ہیں ۔"
یہ بات سُن کر مکث کا دماغ بھک سی اُڑا واٹ ۔۔۔۔"وہ تیزی سے اس طرف بھاگا 
جس پر اس نے دو بندوں کو لڑکھڑاتے ہوئے دیکھا وہ اِن کی طرف ایا اور ان کو ہٹا کر اس نے سامنے ایک بندے کو دیکھا جو حیا کو پیٹ پہ ٹھوکر مار کر اسے گِرا چکا تھا 
مکث کو لگا کسی نے ٹھوکر اس کو ماری ہے اتنی شدید تکلیف وہ بھی حیا کے چہرے کو دیکھ کر اس کی انکھوں میں خون اتر ایا 
اور پھر جب اس آدمی نے حیا کو گالی دئے کر اس پر جکھا ہی تھا مکث نے انگلی سے اپنے بندوں کو اشارہ کیا اور تیزی سے اس کی طرف ایا اور اس زور سے کھینچ کر بُری طرح پیٹ ڈالا 
اس نے اس بندئے کو ختم کرنے سے پہلے اسے ایسی عبرت ناک تکلیف دینا چاہتا تھا کے وہ زندگی بھر یاد رکھے رائن نے فورن پولیس کو کال ملائی جنہوں نے انے میں پانچ سکینڈ نہیں لگائے 
وہ حیا کو اٹھا کر اپنے گھر لیے ایا اور اس سے اپنے بیڈروم میں لٹایا اور 
فورن باہر نکلا کچن میں جاکر فرسٹ ایڈ باکس نکالنے لگا تھا جب دروازے پہ دستک ہوئی اس نے جاکے دروازہ کھولا 
دیکھا رائن کے ساتھ ایک ڈاکڑ اور ایک نرس تھی 
مکث نے خاموشی سے اندر انے دیا اس نے انہیں کمرے کے طرف اشارہ کیا 
اور خود تھکے ہوئے انداز میں صوفے پہ بیٹھ گیا اور جیب سے سگریٹ نکال کر منہ میں ڈالا 
رائن اسے خاموشی سے دیکھ رہا تھا پھر اس کے ساتھ بیٹھ کر اس کو پہلے دیکھتا رہا جو دھوئیں پہ دُھواں اڑائے جارہا تھا ۔"
"یہ سب کیا تھا مکث ۔"
مکث خاموش رہا 
"تم تو کہہ رہے تھے یہ ایک طلب تھی لیکن یہ طلب ہرگز نہیں ہوسکتئ ۔"
مکث آب بھی خاموش رہا 
"تم کہا کرتے تھے محبت میری ڈکشنری میں نہیں ہے پھر یہ سب کچھ بول کیوں نہیں رہے 
‏She's is not like Olivia
"کیا !"
"ہاں وہ کسی بھی لڑکی کے جیسے نہیں ہے 
۔"مکث کے گھمبیر لہجے پہ رائن اس سے ساکت دیکھنے لگا 
‏She's just like a shining star my star you know what why I didn't call her a crystal or diamond something
رائن آب چپ تھا 
"کیونکہ ڈائمنڈ اور کرسٹل تو بڑی عام سی چیز ہے سب کے پاس ہوتا ہے سب اسے حاصل کرسکتے ہیں بڑی ہی بے مول سی چیز ہے لیکن میری حیا وہ ایک تارے کی طرح جس کو کوئی پہنچ نہیں سکتا کوئی چھو نہیں سکتا 
وہ نہ میری ماں اولویا ہے جس کو سب نے حاصل کیا 
نہ باقی لڑکیوں کی طرح جو ایک شکل اور دولت کی خاطر خود کو کسی کے حوالے کردیتی ہیں جسٹ لائک ا پیس اوف ائیٹم اہونو مجھے سیلیوٹ ہے اس مزہب پر جس نے اس سے سٹار بنا دیا بلکل پاک بلکل مکمل تو کہتا ہے نا مجھے محبت نہیں ہوسکتی ہاں مجھے محبت نہیں ہے حیا سےبلکل بھی نہیں ہے مجھے اس سے عقیدت ہے عشق ہے !محبت بہت چھوٹا سا لفظ ہے اس کے لیے۔"
اور رائن بس اسے دیکھے جارہا تھا اسے لگا مکث جیسے ہوش میں نہیں ہے اس خود اپنے الفاظ پہ یقین نہیں ارہا ہوگا شاہد بعد میں مُکر جائے یا شاہد بعد میں مان جائے وہ جانتا تھا وہ ہوش و حواس میں نہیں ہے اور جب اگلے دن آفس میں اس نے کہا تھا وہ اس سے پیار کرنے لگا ہے تو رائن کو کوئی حیرت نہیں ہوئی تھی اسے تو کل پتا چل گیا تھا اور مکث اپنے آپ کو بس نارمل رکھنے کی وجہ سے سمپل الفاظ میں کہہ گیا کے میں اس سے پیار کرنے لگا ہوں رائن کو بڑی ہنسی ائی تھی اس کے پاگلپن پر وہ واقی حیا کے معاملے میں aggressive اور violent تھا جس کو رائن کا چھونا بھی برادشت نہ ہوا جبکہ وہ آب اس کے دستریں میں نہیں ہے یہی بات مکث کو پاگل کررہی تھی ایک پل دل کررہا تھا خود کو ختم کر ڈالے جس سے حُسین کا مقصد پورا نہ ہوں پھر ایک دم کچھ س۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پورے دو دن ہوگئے لیکن حیا کو آبھی تک اپنے یہاں لانے کا مقصد پتا نہیں چلا نہ وہ منُیر نامی گنگسٹر نامودار ہوا تھا نہ یہ سونے کی دانت والا پیٹر کچھ منہ سے پھوٹ رہا تھا پہلے کے دن کی طرح آب کے بار اسے کمرہ کافی لگثری دیا تھا گولڈ گنگ سائز بیڈ گولڈ کرٹن ریڈ اافگانی کارپٹ اور بہت سے مورت کمرے میں پڑئے تھے حیا کو چڑ ہوئی کے اب وہ یہاں نماز نہیں پڑھ سکتی نہ ہی اِن مورتوں کو ہٹا سکتی تھی کیونکہ یہ کافی بڑے اور بھاری لگ رہے تھے 
اس نے دروازہ کھولا اور باہر نکلی کے سامنے یہ کالا جن کھڑا ہوا تھا
"ائی نیڈ ٹو پرئے ۔"
حیا نے اسے گھور کر کہا
"اِدھر او بیٹی میرے ساتھ نماز پڑھ لو ۔"
اس نے دیکھا وہی عورت تھی جو نماز کی نیت کرنے والی تھی حیا کوئی سخت جواب دینا چارہی تھی لیکن نماز کا لحاظ کر کے اگے بڑھ گئی 
"مجھے ڈوپٹہ چاہیے ۔"
حیا سپاٹ لہجے میں بولی 
وہ مسکرائی انہوں نے پیٹر کو اشارہ کیا 
پیٹر سر کو ہلکہ سا خم دئے کر اوپر چلا پڑا پانچ منٹ بعد پھر ایک میڈ نے اس سے خوبصورت بیش قمیتی سکارف دیا جو سکائی بلیو کلر کا تھا 
حیا نے خاموشی سے لیا اور پہن کر اس نے نماز کی نیت باندھ لیوچ رہا تھا کے دروازے پہ دستک ہوئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں فرسٹ ٹائم فاسٹ رکھنے والا تھا ان کے گھر سے جانے سے پہلے سر نے مجھے کہا تھا کے آپ رات کے تین بجے اجائیے گا سحری کرنے کے لیے میں مان گیا خاصی حیرت بھی ہوئی کے رات کے ٹائم کھانا لیکن اتنا عجیب نہیں تھا ظاہری سی بات ہے ہم لوگ راتوں رات کلبز میں شراب کی بوتل اور پتا نہیں کیا کیا کھاتے میں ان کے گھر داخل ہوا تو ان کا وہی سرونٹ تھا حدید اس نے مجھے سلام کرکے اندر انے دیا بدلے میں میں نے بھی اسے کہہ دیا اس کے چہرے کی چمک بڑھ گئی اور اس نے مجھے آج ہال کے بجائے خوبصورت سے وائٹ ڈرائنگ روم میں بٹھایا 
مجھے صوفے کی طرف اشارہ کر کے وہ چل پڑا پورے گھر کے علاوہ صرف اس جگہ کو کسی انٹریر ڈیزائن نے سیٹ کیا ہو گا وائٹ اور اوف فائٹ کمبنیشن کا ڈرائنگ روم دیکھ کر میں امپریس ہوگیا 
دیواروں پر بے شمار اللّٰلہ اور رسول ﷺ کی Calligraphy ہوئی وی تھی 
میں دیکھ رہا تھا جب کسی کی نرم اور کھنکھتی آواز پر چونکہ 
"بابا جانی سحری لگا دی ہے میں نے آپ اپنے مہمان کو بلا دئے ویسے آج آپ کافی لیٹ نہیں ہوگئے ۔"
کیا آواز تھی اس کی 
میں اس کی آواز کو سوچ رہا تھا جب وہ مجھے سامنے دروازے پہ نظر ائی جو کھڑی شاہد کسی کو کچھ کہہ رہی تھی
"مدثر چاچا آپ نے ڈلیوری مین کو کپڑے اور کھانا دیے دیے ۔"
"جی بی بی ۔"
کیا حُسن تھا اس میں اس نے پنک شلوار قمیض پہنی ہوئی تھی سر پہ ڈوپٹہ جو تھا وہ گر کر اس کندھے پہ اگیا 
اور اس کی امبر انکھیں مجھے دور سے بھی نظر ارہی تھی میں نے آج تک اتنی یونیق انکھیں نہیں دیکھئ تھی پنکش اور ریڈ کمپنیشن اور اس کی شکل اس کی شکل تو ہو بہو حیا سے ملتی تھی مطلب گندمی رنگت اور تھیکے نقوش 
"مدثر چاچا آپ پھر بول گئے اف اللّٰلہ آپ کا کیا کرو میں ویسے پروگ میں سب ہی بہت عجیب ہیں ایک ہمارا کینیڈا تھا ائے نہ زرا ملواتی ہوں آپ کو اپنے پرائیم منسڑ سے مسلمانوں کے ساتھ بڑے کھلے دل سے سحری اور افطاری کی تھی ایک دفعہ اور ایک آپ ہیں فورن بھاگ جاتے ہیں نہ رانیہ کو لاتے ہیں میں نے اسے تھوڑی کھا جانا ہے ۔"
وہ نان سٹاپ بولے جارہی تھی آواز اس کی بے شک نرم تھی پر مجھے سمجھ نہیں ارہی تھی لیکن بہت جولی معلوم ہورہی تھی 
"اللّٰلہ میں تو بھول ہی گئی آپ بھی نہ بابا جانی غصہ ہورہے ہوگے کے میں نے ان کے مہمان کو نہیں بلایا ۔"
وہ آب ڈرائنگ روم میں داخل ہوئی 
میں نے سر اٹھا کر دیکھا اس نے ڈوپٹہ آب سر پہ لیا ہوا تھا 
"آپ اجائے بابا جانی بولارہے ہے ۔"
میں نے اگے سے کچھ نہیں کہا اور چلنے لگا کے وہ ایک دم بولی 
"ارے آپ تو ائی مین واو آپ نے جسٹن ٹریڈو کی مثال قائم کردی ۔"
میں نے ناسمجھی سے اس کی بات سُنی 
"فجر بیٹا کتنی دیر لگاوں گی ۔"
"ائی ابو ۔"اس نے تیزی سے کہا اور مجھے ڈائننگ ٹیبل کی طرف لیے گئی جہاں وہ بیٹھے ہوئے تھے 
وہ مجھے دیکھ کر کھڑے ہوگئے اور میرے گلے لگ گئے "اسلام و علیکم اگئے آپ ۔"
میں نے بھی ان کے ہی الفظ دُئرائے وہ حیرت سے ہنس پڑے اور میرا کندھا تھپک کر مجھے بیٹھنے کا اشارہ کیا 
"ارے آپ کو تو سلام کرنا بھی آتا ہے بابا آپ نے تو کامال کردیا مسڑ کو پہلے سے ٹرینگ ہوگئی ۔"
سر کھانسنے لگے 
"فجر بیٹا جلدی سے بیٹھ جائے سحری کا ٹائم ختم ہونے والا ہے ۔"
فجر نے سر ہلایا اور فورن میرے اپوزیٹ بیٹھ گئی 
"میری بیٹی ہے فجر بہت بولتئ ہے نا۔"
"ارے ابو میں نے تو کچھ بھی نہیں بولا آب تک ہاں ویسے یہ بہت کم بولنے والے لگ رہے ہیں بندئے کو بولنا چاہیے زبان کا استمعال کرنا چاہیے پھر زبان کا کیا فائدہ ۔"
وہ آب ان کو کچھ گول سی چیز پلیٹ میں دال رہی تھئ ساتھ میں بولے جارہی تھی 
"اسد نے بلکل بھی نہیں ٹھیک کیا آپ کو پروگ بھیج کر ۔"
سر مسکراہٹ دباتے ہوئے بولے 
فجر نے مجھے پلیٹ افر کی تو رُک کر انہیں دیکھنے لگی 
"کیوں بھلا ؟"
"مجھے جو بولنے والی ریڈو بھیج دیا ۔"
میں ہنس پڑا 
فجر نے پہلے مجھے گھور کر دیکھا پھر سر کو پھر چپ کر کے کھانے لگی 
میں شرمندہ ہوگیا 
"ویسے میں کیا کہہ رہی تھی ابو ہم لوگ عید پاکستان میں نہ منائے ہائے کتنا مزہ ائے گا چاند رات ،مہندی اور چوڑیوں کے سٹال ۔۔۔۔۔۔۔۔ 
وہ اگے سے کچھ بولنے لگی کے سر کی ہنسی چھوٹ گئی ۔وہ بہت زیادہ ہنسنے لگے 
فجر نے انہیں حیرت سے دیکھا 
"میری بیٹی کھبی چپ نہیں ہوسکتئ ہے نا رائن ۔"
انہوں نے مجھ سے کہا
میں نے مسکراہٹ دبائی اور پلیٹ پر جھک گیا 
"جائے بابا آب بہت بُرے ہے ۔"
وہ جلدی سے پلیٹ اٹھانے لگی اور ہم لوگ اپنی سحری مکمل کرچکے تھے 
"اچھا سر چلتا ہوں ۔"
میں ان سے مل کر بولا 
"یاد رکھنا بیٹا آپ نے اس حال میں کچھ ایسا نہیں کرنا جو میں نے کل آپ کو سمجھایا تھا ۔"
"آپ فکر نہ کرے سر ۔"
"شام کو آنا افطاری کے لیے اور یہ لو بُکس آپ کو روزے میں ہلیپ کرے گی ۔"
میں نے مسکراتے ہوئے لی اور ان سے مل کر کار میں بیٹھ چکا تھا 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حُسین کو ہارٹ اٹیک ہوا تھا اولویا نے ہمدردی کے ناطے اسے ہوسپٹیل بھیج دیا لیکن خود سے اس نے ایک فیصلہ کیا ایک بہت بڑا فیصلہ اس نے اپنے بیٹے کو بیچنے کا کیا وجہ یہ تھی وہ حُسین سے ہارنا نہیں چاہتی تھی اس نے حُسین سے بدلا لینا تھا جس کی وجہ سے اسے گھر سے نکالا گیا ،اسے گارل گرل بنا پڑا کوئی عورت جیسے بھی ہوں جس ملک ،نسل ،رنگ کی بھی ہوں وہ کھبی مر کر بھی کال گرل بنا پسند نہیں کرئے گی اور اولویا نے جلدی سے ولئیم سے بات کی اور اس آپنی برابلم بتائی 
"تم کیا چاہتی ہوں اولویا ؟"
ولیم نے اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھا 
"میں بس اس سے جان چھڑانا چاہتی ہوں ۔"
اولویا نے آہستہ سے کہا
"وہ آبھی دس سال کا بچہ ہے اولئ ڈیر وہ کوئی اٹھارہ سال کا نہیں ہے جو اپنی زندگی آرام سے تمہارے بغیر جی لیے گا ۔"
ولئیم نے اسے سمجھانا چاہا 
"پلیز ولیئم مکث کو میں گھر سے نہیں نکال رہی میں اسے کسی کے حوالے کرنا چاہتی ہو مطلب اس سے سیل کرنا چاہتی ہوں ۔"
ولئیم نے حیرانگی سے اولویا کا مطلبہ سُنا 
"کیا ؟"
میں حُسین سے بدلہ لینا چاہتی ہوں میں اسے ایسے انسان کو حوالے کرنا چاہتئ ہو جو اس کو بھیج کر دوسرے ملک میں سلیو بنا دئے جیسے کے پاکستان ہاں اسے وہاں بھیج دئے جب حُسین کو پتا چلا گا کے اس کا بیٹا پاکستان میں کسی کا نوکر یا مزدور ہے تو اسے کیسا محسوس ہوگا ۔"
اولویا کی سوچ کہی سے بھی ایک ماں کی نہیں لگ رہی تھی بدلے کے اگ نے اسے کتنا سفاک بنا دیا تھا 
ولئیم کو پہلی بار اولویا کی سوچ پر تاسف ہوا 
"ائیم سوری اولی یہ نہیں ہوسکتا یہ ایک بچے کے ساتھ میں ایسا ظلم نہیں کرسکتا ۔"
"فائن مت کرو مجھے ہی کچھ کرنا ہوگا ۔"
اولویا فورن اٹھی اور تیزی سے نکلی اچانک اس نے ملر کو فون کرنے کا ارادہ کیا 
"ہلیو ملر ۔"
"ہاں اولویا خیرت ۔"
ملر کی حیرت بھری آواز ائی 
"مجھے تم سے ملنا ہے۔"
"واو تم توایک رات کے بعد کسی بندئے سے دوسری ملاقات نہیں کرتی آج مجھے کیسے یہ شرف حاصل ہوگیا ۔"
بس ہے ایک کام تمہارے فائدئے کے لیے ہی ہے ۔"
"اچھا تو پھر ٹھیک ہے Starbucks میں ملتے ہیں ۔"
اولویا نے فون بند کیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ laurentian university کا منظر تھا جس کے اندر حیا داخل ہوئی تھی 
حیا کو Canada ائے ہوئے چار دن ہوگئے تھے اور آج اس کا یونی ورسٹی میں پہلا دن تھا اس نے اپنے ائے لیول کے اگزامز فٹا فٹ مکمل کیے پروائٹ دئے کر پھر اس نے علینہ کو کال کی کے وہ اس کی ہلیپ آوٹ کردئے 
علینہ شادی کے بعد کینیڈا چلی گئی تھی اور حیا پروگ سے کسی بھی حال میں نکلنا چاہتی تھی علینہ نے اسے سپونسر کیا اور اسے کہا وہ فل حال سٹوڈنٹ کے طور پہ ائی گی اور چار سال کے بعد واپس چلی جائے گی حیا کے لیے چار سال کافئ تھے 
اس نے بے شمار یونی ورسٹی میں اپلائی کیا کچھ جگہ اسے ناکامی ہوگئی تھی کیونکہ اس کے گریڈ اتنے اوٹسٹینڈنگ نہیں تھے وہ تھوڑا سا پریشان ہوگئی علینہ نے کہا پریشان نہ ہوں Financial aid کی اپلیکیشن دو حیا دوبارہ کچھ یونی ورسٹی میں اپلائی کرنے لگی صرف اسے laurentian university 
نے اکسیپٹ کیا جہاں انٹوریو میں علینہ رہتی تھی 
حیا نے آللّٰلہ کا شکر ادا کیا اور Canada کی تیاری کرنے لگی اور آب اس کی یہاں نئ منزل شروع ہونے والی تھی 
........................
۔....................................
حیا نے نماز کے لیے سلام پھیرا تو دیکھا وہ عورت اسے بہت غور سے دیکھ رہی تھی 
حیا نے انہیں اگنور کیا اور دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے اور اپنی بہتری کے لیے دعا کرنے لگی 
منہ پر ہاتھ پھیرا اور اٹھنے لگی کے انہوں نے حیا کا ہاتھ پکر لیا 
حیا نے تیزی سے دیکھا 
"چھوڑئے میرا ہاتھ !"
"بیٹی تم میری بات تو سُن لو "!
"نہیں میں بلکل بھی نہیں سنوں گی مجھے آب کسی پر بھروسہ نہیں ہے اگر ہے تو وہ صرف میرے اللّٰلہ ہے سمجھی آپ "
حیا نے ان کا ہاتھ جھٹکا اور تیزی سے اٹھئ 
وہ بس پریشانی سے اسے بھاگتے کو دیکھ رہی تھی 
"یہ تم کیا کررہے ہوں مُنیر امی جان تمہیں بلکل بھی نہیں معاف کرئے گی۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

.........................................................
میں بے حد خاموش تھا جب میں نے یہ کتابیں بند کی 
میں ایک منٹ کے لیے تو بلکل ساکت ہوگیا کچھ سمجھ میں نہیں ارہی تھی کے کیا کرو مجھے آب اپنے بے سکونی کی وجہ سمجھ میں ائی تھی کیوں میں اتنا بے چین تھا کیوں مجھے بہت تکلیف ہورہی تھی کیونکہ اللّٰلہ نے مجھے چُن لیا تھا سیدھے راہ پر لانے کے لیے میں خاموشی سے اٹھا شاور لیا کیلن کچھ دن امریکاگئی ہوئی تھی کورس کے لیے اس لیے مجھے خاصا مسئلہ نہ ہوا میں نے چابی اٹھائی اور نکل پڑا 
سیدھا ان کے گھر پہنچ گیا جب اتر کر اندر جانے لگا جب کوئی چیز میرے سر پہ گری 
اف!
پھر دیکھا میرے اوپر آٹے کی بوری گری تھی اور میں پورا اٹے میں لتا پتا ہوا تھا 
"ہائے اللّٰلہ یہ کیا ہوگیا مجھ سے "
کسی کی چیخنے کی آواز ائی میں نے اپنے دُکھتے سر کو سنبھلا 
حدید نے فورن بھاگ کر مجھے پکرا 
"آپ ٹھیک ہے رائن سر "
انہوں نے مجھے اٹھایا 
سر نے فورن دروازہ کھولا اور میری طرف بھاگ کر ائے پھیچے فجر بھی تھی 
"آپ ٹھیک ہے بیٹے ۔"
انہوں نے میرے منہ سے اٹا جھآڑا 
میں کھانس پڑا لگتا تھا جیسے سارا آٹا میرے منہ کے اندر منتقل ہوگیا تھا 
"یہ کس بے قوف نے اوپر سے اٹے کی بوری گرائی تھی ۔"
واقی میں میں بھی جانا چارہا تھا کے کس بے وقوف نے اوپر چھت سے اٹے کی بوری پھینکی تھی 
"وہ ابو میں نے "
مجھے حدید نے برامدئے کی سٹیپ پہ بیٹھا کر پانی پلایا اور منہ پر چھینٹے مراوئے جب فجر بولی 
"او میرے خدا فجر کس نے کہا تھا آپ کو اوپر سے بوری پھینکنے کو "
سر کی غصے سے بڑھی آواز ائی 
"ابا میں نے سوچا اتنا بھاری ہے اتنی سڑیاں تھی کیسے گھسیٹ کر نیچے لاتی میں نے پھر پلین بنایا کے کیوں نہ میں اوپر سے پھینک دو پر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
مجھے بے حد ہنسی ائی میں قہقہ لگا کر ہنس پڑا 
ساتھ میں سر نے اپنا سر تھام لیا 
"فجر بیٹا آپ کو کسی نے یہ نہیں بتایا کے اوپر پھینکنے سے بوری پھٹ جاتی ہے ۔"
"میری کیا غلطی ہے قصور تو بوری کے مٹریل کا ہے جو اتنا مضبوط نہیں تھا مجھے کل جاکے ان سے کمپلین کرنے پڑے گی بلکہ میں سوچ رہی ہوں کے میں کیس کرو گی ان پر جو اتنا فضول مٹریل بنایا ہے "۔
مجھے اس کی بات پر پھر دوبارہ ہنس ائی میں نے اس بار بھی اپنے قہقہے کا گلا نہیں گھونٹا 
"ارے آپ کی کیوں بتیسی نکل رہی ہے دیکھ نہیں رہے میں کتنی اہم بات کررہی ہوں "
میں نے اپنی ہنسی روکی 
"سوری !"
"آب چُپ کرو تم مجھے رائن کو اندر لیے کے جانے دو بعد میں اپنی سنُانا۔"
"اچھے خاصے تو ہیں ابو بس آٹا ہی تو گِرا ہے ان پر توبہ ہے ایک کام کرئے ان کے لیے ڈاکڑ لیے ائے کہی چوٹ نہ لگ گئی ہوں نازک کلیِ کو ۔"
"فجر!"
سر وارنگ کے انداز میں بولے 
فجر اٹھ کر اندر چلی گئی 
"میں اپنی بیٹی کی طرف سے آپ سے معافی مانگتا ہوں رائن بیٹا ۔"
"نو سر نو برابلم ایٹ ال بس مجھے واش روم بتادیے کس طرف ہے "
"ہاں کیوں نہیں او میرے ساتھ کہی چوٹ تو نہیں لگی آپ کو ۔"
"نہیں سر بلکل بھی نہیں ۔"
میں مسکرا کر بولا 
"اللّٰلہ کا شکر ہے بیٹا آپ کو کچھ نہیں ہوا ۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کافی کا گھونٹ لیتے ہوئے ملِر بولا 
"ہاں تو تم کیا کہنے والی تھی ۔"
اولویا کے ماتھے پہ اچانک پسینہ اگیا منہ سے تو کہہ دیا تھا کے وہ اس سے جان چھڑوانا چاہتی ہے لیکن اس دل کا کیا کرتی جو بے حد بے چین ہورہا تھا 
"تمہیں بچوں کی تلاش ہے نا ۔"
ملر نے ابروُ اٹھائے 
"واٹ ڈیو مین ؟"
‏I'm willing to sell Max to you 
"کیا!"
"ہاں اس کے بدلے تم نے مجھے دو لاکھ پونڈ دینے ہوگئے بولوں منظور ہے ۔"
"اولویا تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے تم جانتی ہوں مجھے بچے کس لیے چاہیے ۔۔۔۔۔"
اولویا کے ماتھے پر آب کی بار بل پر گئے 
"تمہیں صرف کام سے مطلب ہونا چاہیے مجھے بتاو مکث کو خریدوں گئے کے نہیں ۔"
"ٹھیک ہے جیسے تمہاری مرضی کل رات نو بجے ۔۔۔۔۔"
"کل نہیں آج رات کو ۔"
اولویا تیزی سے بولی 
مِلر کو اس کی ریکاشن پر حیرانی ہوئی لیکن خاموش رہ کر سر ہلایا اور اٹھ گیا 
اور اسی رات اس نے مکث کو اس کے حوالے کردیا 
لیکن وہ جیسے ہی کلب سے باہر نکلی 
پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی یہ اس نے کیا کردیا اپنے مصعوم سے بیٹے کو جہنم میں پھینک دیا کوئی ماں اتنی بھی سفاک ہوسکتئ ہے بدلے کی اگ میں اس نے اپنے بیٹے کا نقصان کیا جیسا بھی تھا بیٹا تو تھا اس کا ۔
"یہ کیا کردیا میں نے مجھے معاف کردو میرے بیٹے مجھے معاف کردوں۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فجر کو کوئی چیز نہیں مل رہی تھی جس سے زاہد کو باہر نکال سکے اس نے پورا بیگ کھنگال ڈالا لیکن کچھ نہ مل سکا 
"فجر خدا کے لیے کتنی دیر لگاو گئی شام ہونے والی ہے ۔"
زاہد بے بسی سے چلایا 
"صبر کرو جزباتی نہ ہوں تم دیکھ نہیں رہی کچھ ڈھونڈ رہی ہو جس سے تمہیں نکال سکوں ۔"
فجر کی ال ٹائم گھوری جاری تھی 
"پلیز بہنا میں نے مرجانا ہے جلدی کرو نا ۔"
"اتنی آسانی سے تو خیر تم نے مرنا تو ہے نہیں اس لیے ٹینشن لینے کی ضرورت نہیں ہے ۔"
فجر نے کچھ سوچ کر ٹریکنگ پول اٹھایا 
زاہد کو اس کے ارادئے نیک بلکل بھی نہیں لگے 
"فجر تم کیا کرنے والی ہو ۔"
فجر نے پہلے ٹریکنگ پول کو دیکھا پھر زاہد کو اچانک اس کے چہرے پہ مسکراہٹ ائی 
"کچھ نہیں بس تمہیں نکالو گی ۔"
فجر نے جمپ مار کر ٹریکنگ پول سے رسی کو مارا لیکن کچھ اثر نہ ہوسکا 
اس نے پھر جمپ ماری لیکن اس بار زاہد کے سر پر لگی 
"اوپس۔"
"اُف میرے اللّٰلہ فجر !!!!!!!!!!!"
زاہد غصے سے چلایا 
"ائیم سو سوری زاہد ۔"
"لڑکی اس سے پہلے میں شہید ہوجاو اپنے بیگ سے شارپ نائف ڈھونڈوں ۔"
"ارئے زاہد وہ تو میں بھول گئی ۔"
"کیا !!!!! میرے اللّٰلہ تو مجھے صبر دئے یا تو پھر اس لڑکی کو سانپ کاٹ جائے ۔"
زاہد تیزی سے بولا 
"ابے کیا منہ سے اوّل فُول بک رہے ہو میں چلی جاو گی ایک تو تمہاری مدد کررہی ہو اوپر سے مجھے ڈرارہے ہو تم نا واقی مر جاو ۔"
"مدد او پلیز آپ کی مدد سے بہتر ہے میں کسی جانور سے مدد لیے لو وہ میرے با آسانی مدد کردئے گا ۔"
"تو پھر بیٹھے رہو اور انتظار کرو کسئ جانور کا جو آپ کی مدد کردیے ۔"
فجر مڑ کر تیزی سے بیگ پیک کرنے لگی 
"اب کہاں جارہی ہوں ؟"
زاہد پریشانی سے بولا 
"میں نہ تمہارے لیے کوئی اچھا سا جانور ڈھونڈ کر لاؤ جو تمہیں یہاں سے نکال دئے ۔"
"فجر مزاق بند کرو آب پلیز کچھ کرو ۔"
زاہد کے چہرے پہ سنجیدگی اگئی ۔
"تو میں کچھ کرنے ہی جارہی ہوں فکر نہ کرو آتی ہونا میں ۔"
"فجر پاگل ہو رُکو ورنہ میں نے ماموں جان کو بتادینا ہے۔ "
فجر آن سُنی کرتے ہوئے وہاں سے چلی گئی اور پھیچے سے زاہد چلاتا رہا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج حیا کو یہاں قید کیے ہوئے اکیس دن ہوگئے تھے لیکن منیر نامی شخص سے ابھی تک اس کی ملاقات نہیں ہوئی تھی 
حیا کو سمجھ میں نہیں آرہی تھی کے یہ آب کیا کرنے والے تھے 
دروازے پہ اچانک دستک ہوئی 
حیا جو بستر پر بیٹھی نیو یارک ٹائمز پڑھ رہی تھی بے دھیانی میں بولی 
"آجاو۔"
دروازہ کھُلا تو اس نے دیکھا تو ایک دم اٹھ پڑی 
چھ فٹ لمبا قد ،بڑی سی دھاڑی نے اس کے منہ کو تقریباً کور کیا ہوا تھا ،گلے میں سونے کی بے شمار چین ، انکھوں پہ کالا چشمہ اتار کر اس کی بڑی بڑی سیاہ خوفناک انکھیں دیکھنے کو ملی شکل سے ہی کوئی گینگسڑ ہی معلوم ہورہا تھا 
"کون ہو تم ؟"
حیا تیزی سے اٹھ کر بولی 
"ارئے ڈیر پیٹر نے آپ کو میرا تعارف نہیں کروایا خیر کوئی بات نہیں میں خود کروادیتا ہو میں مُنیر اظہر 
دوبئی کا جانا مانا گینگسٹر ۔"
حیا کا اس کی بات پر چہرہ سفید ہوگیا 
"اچھا تو تم ہو مُنیر اظہر ؟"
حیا نے خود کو سنبھالا اور دانت پیستے ہوئے بولی 
"جی کوئی شک ہے آپ کو ۔"
وہ مسکراتے ہوئے بولا 
"مجھے آپ بتانا پسند فرمائے گئے آپ مجھے یہاں کیوں لائے ہے ۔"
حیا تحمل سے بولی اسے پتا تھا اگر چیخے چلائے گی تو اس کا ہی نقصان ہوگا 
"ویسے آپ دیکھنے میں بے وقوف تو نہیں لگتی جو آپ سمجھ ہی نہ سکے کے میں آپ کو یہاں کیوں لایا ہوں 
لیکن خیر بتادیتے ہیں آپ کو میرے ایک شیخ دوست نے خرید لیا ہے وہ بھی huge ransom پر ۔"
حیا کو اُمید تھی اس کے ساتھ اِدھر بھی ایسا ہی ہوگا 
"ٹھیک ہے ابھی پیٹر آپ کے لیے ڈریس لائے گا اور آپ نے تیار ہوکر اس کے ساتھ چلے جانا ہے اوکے ۔"
وہ اتنا کہہ کر چلا گیا اور حیا سُن دماغ لیے بیٹھی رہی 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حُسین کو جب گھر سےنکالا تو وہ سیدھا اپنے دوستوں کے گھر گیا پناہ لینے لیکن دوستوں کو بھی پاگل کُتے نے نہیں کاٹا تھا کے حُسین کو گھر میں رکھ کر خود کو مصیبت میں ڈالتے اس لیے انہوں نے حُسین کو وہی سے ٹاٹا بائے بائے کردیا 
حُسین کا خون کھول اٹھا اسے اپنے دوستوں سے امید نہیں تھی کے وہ اس کے بُرے وقت میں اس کا ساتھ نہیں دئے گئے ۔آخر میں ایک دوست کے گھر کے دروازے کو ٹھوکر مار کر وہ وہاں سے چل پڑا سڑک پہ تقریباً آدھا گھنٹے چلنے کے بعد اچانک آزان کی آواز پر اس کے قدم رُک گئے آزان کی بولے سُن کر اسے پتا نہیں کیا ہوا کے وہ وہاں کھڑا رہا سُنے یہاں تک کے آزان ختم ہوگئی لیکن وہ بلکل سٹاچو بن چکا تھا 
ایک آزان کے بول نے اس کے بے چینی کی وجہ بتادی تھی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حُسین کی سرجری کامیاب ہوئی پھر جب اس کو کمرئے میں سفٹ کیا گیا تو اس کے دوست اسد اجازت ملتے ہی اندر داخل ہوا 
حُسین ہوش میں اچکا تھا لیکن ابھی انکھیں بند کیے ہوئے لیٹا ہوا تھاجب اسد اس کے قریب ایا اور اس کے سر پر ہاتھ رکھا 
حُسین نے فورن انکھیں کُھولی 
"کیسے ہو دوست یہ کیا حالت بنا لی تمہیں اندازہ بھی ہے کے اس وقت ماہم کو تمہاری کتنی ضرورت تھی ۔"
حُسین نے شرمندگی سے نظریں جھکا لی 
"معاف کردو یار میں نہ اسکا میں جانتا ہو ماہم کو اس وقت میری سخت ضرورت تھی تم نے اسے میرے بارے میں تو نہیں بتادیا ۔"
"پاگل نظر ارہا ہو میں تمہیں ویسے ایک خوش خبری ہے ۔"
حُسین ہلکہ سا مسکرایا "وہ کیا ؟"
"تمہارے گھر رحمت نازل ہوئی ہے ۔"
حُسین کی انکھیں پوری کی پوری کُھل گئی 
"کیا لیکن اتنی جلدی ۔"
"بس تمہاری بیگم کو سو وہم ہونے لگتے ہیں کے انہوں نے اپنا بی پی شوٹ کر لیا جس کی وجہ سے فجر پری مچیور ہوئی ہے ۔"
"بدتمیز انسان میری بیٹی کا نام بھی رکھ لیا اور بتایا بھی نہیں ۔"
حُسین کی انکھوں میں نمی اگئی اور لبوں پہ شکوہ 
"ارئے یار یہ نام تمہارے بھتیجے زاہد نے رکھا ہے میں کیا کرتا ہم سب نے اس پیارے نام کو اوکے کردیا ۔"
پھر حُسین کو اچانک اپنے بیٹے مکث کی یاد ائی وہ جو مسلمان ہونے کے باوجود عیسائی بنا ہوا تھا کتنا بدنصیب باپ تھا جس کا بیٹا دس سال سے جیسز کو مان رہا ہے ایک اور گناہ حُسین سے ہوگیا حُسین کے چہرے پہ تکلیف کے اثار انے لگے 
"حُسین تم ٹھیک ہوں ؟"
اسد پریشانی سے اٹھا 
"ہاں ٹھیک ہو پر میں یہاں سے جانا چاہتا ہوں ۔"
"پاگل ہو ابھی تمہاری سرجری ہوئی ہے تم تو مہینے سے پہل بستر سے نہیں اٹھ سکتے ۔"
"مہینہ نہیں اسد ورنہ بہت دیر ہوجائے گی مجھے مکث سے ملنا ہے مجھے بہت سی چیزیں ٹھیک کرنی ہے ۔"
نرس اندر ائی تو حُسین کی حالت دیکھ کر فورن ڈاکڑ کو بولانے کے لیے بھاگی 
ڈاکڑ نے اکے چیک کیا اور حُسین کو نیند کا انجکشن لگا کر اسد کے پاس اکر سنجیدگی سے بولے "آپ کو میں نے منع کیا تھا کے ان کو کوئی سٹریس والی بات نہیں کہنی تو پھر آپ نے کیوں کہی جس سے مسڑ حُسین کی طبیعت خراب ہوگئی ۔"
"ڈاکڑ میں نے ایسا کچھ بھی نہیں کہا جس سے حُسین سٹریس لیے لیتا بلکہ میں نے تو صرف اس کی بیٹی کی پیدائش کی خبر بتائی ہے ۔"
اسد تیزی سے بولا 
"خیر ہم نے ان کو انجکشن دئے دیا ہے آپ ان سے کل ملاقات کیجیے گا ۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں شاور لیے کے نکلا تو سر کا دیا ہوا شلوار سوٹ پہنا یہ ڈریس بہت زیادہ کمفڑبل تھا اور مجھے جچ بھی رہا تھا 
نیچے ایا تو دیکھا فجر لاوئنج میں نظر ائی وہ کسی بچی کے سر میں مساج کررہی تھی 
"ہاں تو میں کیا کہہ رہی تھی کے جو کینیڈا میں دیسی کھانوں کی ویرائٹی ہے یہاں پروگ میں تو ہرگز نہیں ہے یہاں تو بس پھیکا کھانا اور پتا نہیں کون سی ائسکریم ہاں trdelnik قسم لے لو آج تک میں نے ایسی بکواس چیز نہیں چھکی کل گئی تھی حدید بھائی کے ساتھ میرے تو پورے بیس کرونا ضائع ہوگئے اللّٰلہ اللّٰلہ مجھے تو بہت دُکھ ہوا میں لڑنے بھی والی تھی کے حدید بھائی نے مجھے بابا جانی کا لیکچر دینا شروع کردیا بھائی اس وقت تو میرا روزہ نہیں تھا کہنے لگے تو رمضان کا مہینہ تو ہے اور ویسے بھی لڑنا جھگڑنا بُری بات ہے اُف یہ بابا اور ان کے بندئے بس میرے پھیچے پڑے رہتے ہیں میں زاہد کو بہت مِس کررہی ہوں
قسم سے پاپا اور مما نہ روک ٹوک کرتے تھے نہ کوئی لیکچر 
وہ اگے سے اپنا ریڈیو جاری رکھتی کے میں اندر داخل ہوا 
اس کا منہ بند ہوگیا وہ مجھے انکھیں پھاڑے دیکھ رہی تھی پھر ایک دم کھکھلا کر ہنس پڑی "او میرے خدایا یہ کیا پہن لیا آپ نے ۔"
مجھے اس کی ہنسی بڑی ہی عجیب لگی لیکن بہت حسین بھی 
"فجر !!!"
ڈاکڑ حُسین کی تنبیہ آواز پر میں نے گردن موڑی 
وہ فجر کو گھور رہے تھے اور جب انہوں نے میری طرف دیکھا تو ان کے چہرے پر گہری مسکراہٹ اگئی 
"ماشاآللّٰلہ اللّٰلہ نظر بد سے بچائے بہت پیارے لگ رہے ہوں ۔"
میں چھینپ گیا جبکہ فجر کی پھر سے ہنسی چھوٹی 
ڈاکڑ حُسین نے فجر کی طرف پھر دیکھا تو وہ منہ پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولی 
"سوری بابا !"

"سر مجھے
جاری ہے
 
Zubair Khan Afridi Diary【••Novel ღ ناول••】. Zubair Khan Afridi
knowledgemoney